Sunday, October 2, 2022

سپریم کورٹ کا یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس

سپریم کورٹ کا یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس
 اسلام آباد (92 نیوز) سپریم کورٹ نے یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس لے لیا۔ سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد پر سپریم کورٹ برہم ہو گئی۔ شوکت علی کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران نوٹس لے لیا۔ جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دئیے کہ ہمیں آزادی اظہار رائے سے کوئی مسئلہ نہیں، ہم عوام کے پیسے سے تنخواہ لیتے ہیں اور ہماری کارکردگی اور فیصلوں پر عوام کو بات کرنے کا حق ہے۔ جسٹس قاضی امین نے کہا کہ نجی زندگی کا حق بھی ہمیں آئین دیتا ہے۔ استفسار کیا کیا  ایف آئی اے اور پی ٹی اے نے کبھی دیکھا کہ یوٹیوب پر کیا ہورہا ہے۔ ججز کو شرمندہ کیا جاتا ہے۔ یوٹیوب پر کوئی چاچا تو کوئی ماما بن کر بیٹھ جاتا ہے۔ کل ہم نے فیصلہ دیا اور وہ یوٹیوب پر شروع ہو گیا۔ ہم تحمل کا مظاہرہ کررہے ہیں لیکن آخر اس کا اختتام تو ہونا ہے۔ آرمی ، عدلیہ اور حکومت کے خلاف لوگوں کو اکسایا جاتا ہے۔ ایسے جرم کے مرتکب کتنے لوگوں کے خلاف کارروائی ہوئی؟ پی ٹی اے حکام نے آگاہ کیا کہ انفرادی مواد کو یوٹیوب سے ہٹا نہیں سکتے، صرف رپورٹ کر سکتے ہیں جس پر جسٹس مشیر عالم نے ریمارکس دئیے کہ کئی ممالک  میں یوٹیوب بند ہے اور کئی ممالک میں سوشل میڈیا کو مقامی قوانین کے تحت کنٹرول کیا جاتا ہے۔ امریکہ اور یورپی یونین کے خلاف مواد یوٹیوب پر ڈال کر دکھائیں؟ عدالت نے وزارت خارجہ اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت عید کے بعد تک ملتوی کر دی۔