Tuesday, October 4, 2022

سپریم کورٹ کا مارگلہ کی پہاڑیوں پر اسٹون کرشنگ روکنے کا حکم

سپریم کورٹ کا مارگلہ کی پہاڑیوں پر اسٹون کرشنگ روکنے کا حکم
اسلام آباد ( 92 نیوز) سپریم کورٹ نے مارگلہ کی پہاڑیوں پر اسٹون کرشنگ روکنے کا حکم دے دیا ، جہاں کرشنگ ہوئی وہاں پر شجرکاری یقینی بنانے کی ہدایت بھی دے دی ۔ سپریم کورٹ میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق کیس کی چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ، اسلام آباد میں گندگی پر چیئرمین سی ڈی اے اور مئیر اسلام آباد کی سرزنش کی ، ریمارکس دئیے آلودگی کے لحاظ سے اسلام آباد بدترین دارالحکومت ہے،اس شہر کا کوئی معیار تو بنائیں۔ عدالت نے کہا کہ لوگوں کے لیے بیٹھنے، چلنے اور تفریح کی جگہ ہونی چاہیے، یقینی بنایا جائے انڈسٹریل ایریا میں ماحولیاتی آلودگی کیخلاف قوانین پر عمل ہوگا ، ایسی صنعتوں کو نہ چلائیں جو اسلام آباد کو آلودہ کریں، اسلام آباد کی اپنی فوڈ اتھارٹی بنائیں جو چیزوں کا جائزہ لے، ایئرپورٹ سے ایوان صدر تک ہر جگہ قومی پرچم لگے ہونے چاہئیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سی ڈی اے کا اپنے ملازمین پر کوئی کنٹرول نہیں، چیئرمین سے زیادہ کلرک طاقتور ہیں ۔ عدالت نے میئر اسلام آباد کی بھی سرزنش کی کہا کہ اسلام آباد والوں کو ٹرانسپورٹ کیوں نہیں دیتے؟ ، کچھ نہیں کرنا تو کم از کم رکشے ہی چلا دیں تاکہ خواتین محفوظ سفر کر سکیں،اب سڑکوں سے نکل کر اب اسکائی اور زیرزمین ٹرین کی طرف آئیں۔ساڑھے تین سال آپکی پارٹی کی حکومت رہی تب آپ نے کیا کر لیا؟ ۔ عدالت نے سی ڈی اے ملازمین کے تبادلوں سے متعلق نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن کو دو ہفتے میں فیصلہ کرکے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ، کہا کہ این آئی آر سی وفاقی ترقیاتی ادارے کے تمام مقدمات کا فیصلہ چھ ماہ میں کرے۔ عدالت نے بلدیاتی اختیارات کی منتقلی پر سیکرٹری داخلہ سے بھی جواب طلب کرلیا  ۔ قرار دیا کہ کہ سیکرٹری داخلہ پیش ہو کر بتائیں آرٹیکل 140 اے پر عملدرآمد کیلئے کیا اقدامات کیے ، سپریم کورٹ نے مارگلہ کی پہاڑیوں پر اسٹون کرشنگ روکنے کا بھی حکم دے دیا ۔پنجاب اور کے پی حکومتوں کو کرشنگ والی جگہ پر شجرکاری یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔