Sunday, November 27, 2022

سپریم کورٹ کا غیر معیاری رپورٹ پر ایک منرل واٹر کمپنی بند کرنے کا حکم

سپریم کورٹ کا غیر معیاری رپورٹ پر ایک منرل واٹر کمپنی بند کرنے کا حکم
لاہور (92 نیوز) سپریم کورٹ نے غیر معیاری پانی کی رپورٹ آنے پر ایک کمپنی کی فرنچائز کو بند کرنے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ وفاقی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی خاتون افسر نے بتایا کہ بتایا کہ پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں کے پاس بنیادی لیبارٹریاں ہی نہیں۔ کمپنیاں پانی سے منرلز الگ کرنے اور زیر زمین پانی کی بحالی کرنے والی ٹیکنالوجی استعمال ہی نہیں کر رہیں۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی پنجاب کیپٹن عثمان نے بتایا کہ پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں کی بوتلوں پر لکھے گئے۔ منرلز مقررہ مقدار میں نہیں پائے گئے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک کمپنی کی فرنچائز سے نمونہ حاصل کیا توپانی غیر معیاری نکلا۔ دوران سماعت ڈی جی فوڈ اتھارٹی سے بدتمیزی کرنے پر عدالت نے کمپنی پر برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے مالک کے خلاف فوڈ اتھارٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے کمرہ عدالت سے گرفتار کرنے کی ہدایت کی جس پر کمپنی مالک کے بار بار معافی مانگنے پر عدالت نے گرفتاری سے روک دیا۔ عدالتی حکم پر دوسری کمپنی کی سی ای او عدالت پیش ہوئیں۔ چیف جسٹس نے سی ای او سے استفسار کیا کہ پاکستان میں پانی کا معیار برقرار کیوں نہیں رکھا۔ پاکستان سے تیسری دنیا والا سلوک اور امتیازی سلوک نہیں ہونے دیں گے۔ معیار برقرار نہ رکھا اور خامیاں دور نہ کیں تو کمپنی کو پاکستان میں بند کر دیں گے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے آڈیٹرجنرل کی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ڈیڑھ لیٹر پانی کی بوتل پر پیکنگ سمیت آٹھ روپےاناسی پیسے لاگت آتی ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ عدالت پانی کی قیمت کم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ شہریوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے عدالت سخت کاروائی کرئے گی۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ واٹر کمپنیاں جھوٹ بول کر کروڑوں کما رہی ہیں۔ بغیر وجہ کے شہریوں کو ایسا پانی پلا رہی ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا تک بڑے آدمی کو ہاتھ نہیں پڑے گا تو وہ درست کام نہیں کرے گا۔ عدالت نے پانی فروخت کرنے والی تمام کمپنیوں کو دس یوم میں خامیاں دور کرنے کی ہدایت کر دی۔ عدالت نے عدالتی کمیشن کو پانی فروخت کرنے والی کمپنیوں کی انسپکشن کرنے کے بھی احکامات صادر کر دئیے۔ چیف جسٹس نے معیاری پانی فروخت کرنے پر ایک کمپنی کی تحسین کی۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت تین دسمبرتک ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار لاہور رجسٹری سے روانہ ہو گئے۔