Saturday, October 1, 2022

سپریم کورٹ کاسیمنٹ فیکٹری کو 7 روز میں کٹاس راج مندر کا تالاب بھرنے کا حکم

سپریم کورٹ کاسیمنٹ فیکٹری کو 7 روز میں کٹاس راج مندر کا تالاب بھرنے کا حکم

اسلام آباد ( 92 نیوز ) سپریم کورٹ میں کٹاس راج مندر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی ۔ عدالت نے سیمنٹ فیکٹری کو 7 روز میں کٹاس راج تالاب بھرنے کا حکم دے دیا ۔ ملک کے بڑے بڑے اداروں میں بندر بانٹ ہورہی ہے ۔
سپریم کورٹ نے کٹاس راج مندر کا تالاب بھرنے کےلئے بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کو سات روز کی ڈیڈ لائن دے دی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہیں وزیراعلیٰ پنجاب آلودہ پانی پی کر دکھائیں ۔ کیا ملک میں اشرافیہ کےلئے کوئی قانون نہیں؟ ۔ اداروں میں بندر بانٹ ہورہی ہے ۔ لوگوں کی صحت کی قیمت پر سیمنٹ فیکٹریاں نہیں چلنے دیں گے۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی ۔ عدالت بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کے وکیل کی عدم پیشی پر برہم ہوگئی ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ فیکٹری مالک کیوں نہیں پیش ہوتے؟ ۔ کیا انہیں نہیں کہ پتہ کیس چل رہا ہے۔
چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری یومیہ 80 ہزار گیلن پانی کھینچ رہی ہے۔ لوگوں کو پینے کا پانی نہیں مل رہا ۔ یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب سے کہیں گے کہ ان کے سامنے آلودہ پانی پی کر دکھائیں۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ فیکٹری کو کس نے زمین کی نچلی سطح استعمال کرنے کا حکم دیا؟۔ فیکٹری روزانہ کتنا پانی استعمال کرتی ہے؟ ۔ پیداوار کی اجازت پہلے کتنی تھی اور آج کتنی ہے؟۔ امیر لوگوں نے پہاڑتک کھدائی کرکے ختم کردیئے۔ موٹروے سے گزرتے ہوئے قدرتی حسن کی تباہی دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ نقصان کی ذمہ دار بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری ہے۔ اگر مقامی سطح پر ماحول خراب ہوا تو ساری فیکٹریاں بند کر ادیں گے۔
چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ مطلوبہ اہلیت نہ رکھنے والوں کو دھڑا دھڑ عہدے دیئے جارہے ہیں ۔ حکومت اپنا کام جاری رکھے ۔ عدالت چیک اینڈ بیلنس کےلئے موجود ہے۔ ہائیکورٹ سمیت کوئی عدالت سیمنٹ فیکٹریوں کی اپیلیں نہ سنے ۔
عدالت نے بیسٹ وے سیمنٹ فیکٹری کو 7دنوں میں ٹیوب ویل بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے پنجاب حکومت سے سیمنٹ فیکٹریاں قائم کرنے کے طریقہ کار اور فیکٹریوں سے پیدا ہونیوالی ماحولیاتی آلودگی سے متعلق تفصیلات طلب کرلیں ۔
کیس کی دوبارہ سماعت 18دسمبر کو ہوگی۔