Tuesday, September 27, 2022

سپریم کورٹ نے 52 مرتبہ سزائے موت پانے والے ملزم صوفی بابا کو بری کر دیا

سپریم کورٹ نے 52 مرتبہ سزائے موت پانے والے ملزم صوفی بابا کو بری کر دیا
 اسلام آباد (92 نیوز) سپریم کورٹ نے 52 مرتبہ سزائے موت پانے والے ملزم صوفی بابا کو بری کر دیا۔ ملزم بہرام عرف صوفی بابا پر خودکش بمبار تیار کرنے کا الزام تھا۔ حضرت سخی سرور حملے میں 52 مرتبہ سزائے موت پانے والے ملزم  صوفی بابا کے کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر پنجاب نے عدالت کو بتایا ملزم نے سخی سرور دربار پر حملہ کے لیے خودکش حملہ آ ور تیار کیے۔ ملزم نے اعترافی بیان بھی دیا۔ دوران سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ صوفی بابا لوگوں کو جنت بھیجتا ہے ، خود کیوں نہیں جاتا۔ عجیب بات ہے کہ بچوں کو تیار کرنے والے کے خلاف ثبوت نہیں۔ خود کش حملہ کرنے والا بچہ درحقیقت خود نشانہ بنتا ہے۔ ملزم کے بیان کے مدنظر پولیس نے کوئی ثبوت نہیں دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم خود کش حملہ کے موقع پر موجود نہیں تھا۔ اس کے خلاف پراسیکیوشن نے کوئی ثبوت نہیں دئیے۔ سپریم کورٹ نے ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوے بری کر دیا۔ صوفی بابا پر حضرت سخی سرور دربار پر حملے کے لیے خودکش بمبارتیار کرنے کا الزام تھا ۔اس حملے میں 52 افراد ہلاک اور 73 زخمی ہوئے تھے۔ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو 52 مرتبہ سزائے موت اور 73 مرتبہ عمر قید سنائی تھی۔ ہائیکورٹ نے بھی ملزم کی سزا برقرار رکھتے ہوئے اپیل مسترد کردی تھی۔