Wednesday, February 1, 2023

سپریم کورٹ نے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کے سربراہان کو طلب کر لیا

سپریم کورٹ نے پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کے سربراہان کو طلب کر لیا
اسلام آباد (92 نیوز) پی آئی اے کے 12 پائلٹس اور73 کیبن کریو ممبران کی ڈگریاں جعلی نکلیں۔ عدالت نے پی آئی اے سول ایوی ایشن کے سربراہوں اور ڈگریوں کی تصدیق نہ کرنے والی جامعات کے وائس چانسلرز کو طلب کر لیا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پائلٹس اور کیبن کریو عملے کی جعلی ڈگریوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جعلی ڈگریوں کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ پی آئی اے میں 498 پائلٹس ہیں جن میں سے 12 کی ڈگریاں جعلی ہیں۔ 1864 کریو ممبران میں سے 73 جعلی ڈگری ہولڈر ہیں۔ 146 کی ڈگریاں تصدیق کے مرحلے میں ہیں۔ شاہین ایئرلائن کے 172 پائلٹس اور کیبن کریو عملہ 538 افراد پر مشتمل ہے۔ 442 ڈگریاں موصول ہوئی ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے ایک سال پہلے نوٹس لیا تھا۔ آج تک کچھ نہیں ہوا۔ ڈگری جعلی ہے تو تحقیقات کس بات کی؟؟۔ سول ایوی ایشن کے نمائندے نے بتایا کہ جعلی ڈگری والے پائلٹس کے لائسنس معطل کر دیئے ہیں۔ جن کے خلاف کارروائی کریں وہ حکم امتناع لے آتے ہیں۔ 2 مہینے کا وقت دیں تحقیقاتی رپورٹ پیش کر دیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گھنٹوں کی بات کریں۔ آپ تو مہینے مانگ رہے ہیں۔ حکم امتناعی سے متعلق جائزہ لیں گے۔ این آئی آر سی سے ساری فائلیں منگوا رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈی جی کہاں ہیں؟؟۔ آج کل پی آئی اے کے سی ای او کون ہیں؟؟۔ عدالت نے جعلی ڈگری ہولڈرز کا تمام ریکارڈ ماتحت عدالتوں سے مانگ لیا۔ پی آئی اے سول ایوی ایشن کے سربراہوں اور ڈگریوں کی تصدیق نہ کرنے والی جامعات کے وائس چانسلرز کو طلب کرتے ہوئے سماعت 24 دسمبر تک ملتوی کر دی۔