Thursday, September 29, 2022

سپریم کورٹ نے ٹمپرڈ گاڑیوں پر آنیوالے اخراجات کی تفصیل مانگ لی

سپریم کورٹ نے ٹمپرڈ گاڑیوں پر آنیوالے اخراجات کی تفصیل مانگ لی
اسلام آباد ( 92 نیوز)سپریم کورٹ نے ٹمپرڈ گاڑیوں پر آنےوالےاخراجات  کی تفصیلات طلب کرلیں، چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ ٹمپرڈ گاڑیاں نیلام نہیں ہو سکتیں تو آگ لگادیں ، گاڑیاں کھول کر فروخت کریں،رقم ڈیمز فنڈ میں جمع کرائیں۔ سرکاری اداروں کی لگژری گاڑیوں سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی ، دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہاکہ کسٹم کے تمام ایڈیشنل کلیکٹرز کے پاس لگژری گاڑیاں ہیں ، تمام ضبط شدہ غیر قانونی  گاڑیاں استعمال ہو رہی ہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ٹمپرڈ گاڑیاں نیلام نہیں ہو سکتیں  ،  جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس میں کہا کہ گاڑیاں نیلام نہیں ہو سکتیں تو آگ لگا دیں  ،گاڑیاں کھول کر فروخت کریں رقم ڈیمز فنڈ میں جمعہ کرائیں ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ فیلڈ افسران نے آج تک کتنے سمگلر پکڑے ،  باڑا مارکیٹ بند ہوں تو سمگلنگ  روک سکتی ہے ،  رینجرز کی مدد فراہم کرتا ہوں باڑا مارکیٹیں  بند کرا دیں۔ انھوں نے کہا کہ افسر ان کو وہی گاڑیاں دیں جن کے وہ اہل ہیں ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا فور ویلر گاڑیاں  ڈیم کے تعمیراتی عملے کو دے دیتے ہیں ،  ٹمپرڈ  گاڑیوں کے استعمال کے حوالے سے قوانین بنا لیے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ قوانین بنانے ہیں تو ٹمپرڈ گاڑیوں کی نیلامی کے بنائیں،  وزیراعظم سیکریٹریٹ دو وینٹیج گاڑیاں فروخت کر رہا تھا ، نگران وزیراعظم نے گاڑیوں کی فروخت کو روکا ہے ۔ عدالت نے ہدایت کی کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں دس سال پرانی گاڑیوں کی نیلامی سے متعلق فیصلہ کرے ، کیس کی سماعت چھ اگست تک ملتوی کردی گئی۔