Saturday, August 20, 2022

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت کے فیصلوں پر عمل  درآمد روک دیا

سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزائے موت کے فیصلوں پر عمل  درآمد روک دیا
اسلام آباد(92نیوز)سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کی جانب سے دی گئی پھانسی کی سزاؤں پرعملدرآمد روک دیا۔ چیف جسٹس ناصرالملک نے کہا ہے کہ کچھ پتہ نہیں کہ فوجی عدالتوں میں کیا کارروائی ہورہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں سترہ رکنی فل کورٹ بینچ نے فوجی عدالتوں کےقیام، اٹھارویں اوراکیسویں آئینی ترمیم کےخلاف دائردرخواستوں پرسماعت کی۔ سپریم کورٹ بار کی وکیل عاصمہ جہانگیرنے موقف اپنایا کہ فوجی عدالتوں کی آئینی حیثیت کا تعین ہونے تک سزائے موت پرعمل روکا جائے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ سزائوں پرعمل روکنا آئینی ترمیم کیخلاف حکم امتناعی کے مترادف ہوگا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ شیخ لیاقت حسین کیس میں فوجی عدالتوں کو غیر آئینی قرار دے چکی ہے، ماضی میں جب فوجی عدالتوں کے خلاف فیصلہ دیا گیا تب تک دو افراد کو پھانسی دی جاچکی تھی۔ عدالت نے سزاؤں پرحکم امتناع سےمتعلق موقف پیش کرنے کےلیے اٹارنی جنرل کونوٹس جاری کردیا۔