Wednesday, October 5, 2022

سپریم کورٹ نے فریقین سے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل اور ٹی او آرز پر تحریری جواب طلب کرلیا

سپریم کورٹ نے فریقین سے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل اور ٹی او آرز پر تحریری جواب طلب کرلیا
  اسلام آباد(92نیوز)چیف جسٹس نے پانامہ لیکس پرتین آپشن دیدیئے پہلا آپشن ھم خود بنک کے کھاتوں کا جائزہ لیں دوسرا آپشن  تحقیقاتی ادارے تحقیقات کریں۔ تیسرا آپشن درخواست گزار خود ثبوت دیں جسٹس انورظہیرجمالی نے ریمارکس میں کہا کہ ملک کو انتشار اور بحران سے بچانا ہےسپریم کورٹ نے فریقین سے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل اورٹی او آرز پرتحریری جواب طلب کرلیا ۔ تفصیلات کےمطابق سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کیس کی سماعت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کی۔عدالت نے سپریم کورٹ نے فریقین سے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل اور ٹی او آرز سے متعلق تحریری طور پر جواب طلب کر لیا ہے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ کمیشن سپریم کورٹ کو رپورٹ کرے گا اور کمیشن کو سپریم کورٹ کے اختیارات حاصل ہونگے۔ ملک کو انتشار اور بحران سے بچاناہے سکینڈل سے پورا ملک متاثر ہوا ہے۔ جسٹس عظمت سعید کہتے ہیں کہ تمام فریقین کمیشن سے متعلق جواب دیں ، آٹھ ماہ سے فریقین پش اپس لگا رہے ہیں۔ آف شور کمپنیوں کا اصل مالک کون ہے۔ دستاویز دکھائیں  پیسے کہاں سے منتقل ہوئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ وہ آرٹیکل 184-3 کے تحت سماعت کر رہے ہیں یہ کوئی ٹرائل نہیں ہو رہا ہے۔عدالت تحقیقاتی ادارہ نہیں ۔تحقیقات کے لئے حکم دے سکتی ہے۔ معاملے کی مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے۔  پراسیکیوٹر نیب نے عدالت کوبتایا کہ پانامہ دستاویزات کے ساتھ ٹھوس شواہد موجود نہیں ۔عدالت کو منی لانڈرنگ اور ٹیکس معاملات براہ راست دیکھنے کا اختیار نہیں ۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ تحقیقات کرنا نیب کا کام ہے اب تک کیوں نہیں کیں جسٹس آصف کھوسہ کا کہناتھاکہ چئیر مین نیب کے خلاف کیا فیصلہ کرنا ہے اس معاملے کو بھی عدالت دیکھے گی جنہوں نے اب تک کچھ نہیں کیا ان سے نمٹ لیں گے پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان نے کہا کہ نیس کول اور نیلسن نامی دونوں کمپنیاں مریم صفدر کی ملکیت ہیں ۔ وزیرآعظم اپنی تقاریر میں بیرون ممالک جائیدادوں کو تسلیم کرچکےہیں۔ کیس کی سماعت جمعرات کو ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی  کردی گئی۔