Monday, December 5, 2022

سپریم کورٹ نے زیر زمین پانی استعمال کرنے پر ایک روپیہ چارج لگا دیا

سپریم کورٹ نے زیر زمین پانی استعمال کرنے پر ایک روپیہ چارج لگا دیا
اسلام آباد (92 نیوز) زیر زمین پانی کی قیمت سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے زیر زمین پانی استعمال کرنے پر ایک روپیہ چارج لگا دیا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے منرل واٹرکمپنیوں سے زیرزمین پانی کی مد میں چارجزوصولی کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ منرل واٹر کمپنیاں قوم کی نہیں بلکہ اپنے منافع کی پرواہ کریں۔ کمپنیاں قوم کا مسیحا نہیں ہیں۔ قوم گھڑے کا پانی پی لے گی۔ منرل واٹر کمپنی کے نمائندہ نے 158 ملین روپے سالہ آمدنی کا بتاتے ہوئے کہا کہ پھانسی دے دیں لیکن یہ نہ کہیں کہ منافع کیلئے کہہ رہا ہوں۔ چیف جسٹس نے منرل واٹر کہنے پر بھی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بوتل میں بند پانی ہے منرل واٹرنہیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تمام صوبوں میں ایک روپے فی لیٹرپانی چارجزپراتفاق ہونے کا بتایا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ ڈیڑھ لیٹرکی بوتل 50 روپے میں فروخت ہوتی ہے جو پیسے اکٹھے ہوں گے پانی کی بہبود پرہی خرچ ہوں گے۔ کمپنی کے نمائندہ نے پانی کی پیمائش کا یونٹ پوچھتے ہوئے کہا کہ ایک روپیہ فی لیٹر کے ایک کیوسک پر 42 ملین روپے دینا پڑیں گے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بوتل والی کمپنیاں مفت میں اربوں روپے کماتی ہیں ۔ جتنا زیر زمین پانی پہلے استعمال کیا جا چکا ہےاس پر بھی ٹیکس لیں ۔ اگرسودا قبول نہیں ہے تو صنعت بند کر کے چلے جائیں۔ تیس سال بعد آنے والی نسل کو پانی نہ ملا تو کیا جواب دینگے۔ دوران سماعت خدشات کا اظہار بھی کیا کہ ہو سکتا ہے انکی ریٹائرمنٹ کے بعد فیصلے پرعملدرآمہ نہ ہو۔ یاد رکھیں پھر قوم آپ سے آنکھیں پھیر لے گی۔ عدالت نے زیر زمین پانی کے استعمال بارے مقدمہ نمٹا دیا۔