Wednesday, October 5, 2022

سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کی گورننس پر سوال اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کی گورننس پر سوال اٹھا دیے
 اسلام آباد (92 نیوز) سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کی گورننس پر سوال اٹھا دیے۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے اسپیشل سیکرٹری کا عہدہ تخلیق کرنے پر اظہار برہمی کیا۔ جسٹس فائز عیسی نے اسپیشل سیکرٹری کا عہدہ بنانے کے کیس میں ریمارکس دیئے کہ چیف سیکرٹری صوبائی حکومت کے اختیارات کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟ من پسند افسران کو نوازنے کیلئے سپیشل سیکرٹری کا عہدہ بنایا گیا۔ بری گورننس کی یہ بدترین مثال ہے۔ جسٹس فائز عیسی کا کہنا تھا کے پی بیڈ گورننس اس لیے ہے کہ کوئی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ کیا حکومت ایسے چلائی جاتی ہیں؟ کیا کل پشاور میں سُپر سیکرٹری کا عہدہ بھی تخلیق ہو سکتا ہے؟ ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہا اسپیشل سیکرٹری کا عہدہ 2007 میں تخلیق کیا گیا۔ وزیراعلی نے عہدے کے قیام کی سمری منظور کی تھی۔ اس پر جسٹس فائز عیسی نے ریمارکس میں کہا رولز آف بزنس میں ترمیم کے بغیر عہدہ تخلیق نہیں ہو سکتا۔ صوبائی حکومت کو انکے اپنے بنائے ہوئے قوانین پر عمل کرنے کا کہ رہے ہیں۔ جسٹس فائز عیسی نے ایڈووکیٹ جنرل کے پی سے دلچسپ سوال کیا کہ آپکو سپیشل ایڈووکیٹ جنرل کا عہدہ قابل قبول ہو گا؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے کہا اپنے ہوتے ہوئے سپیشل اے جی کا عہدہ کیسے بننے دے سکتا ہوں۔ اس پر جسٹس فائز عیسی نے کہا ایڈووکیٹ جنرل سپیشل سیکرٹری بھی سیکرٹری اور ایڈیشنل سیکرٹریز کو ایسے ہی ناقابل قبول ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا عدالت مہلت دے قانون میں موجود ابہام دور کر دینگے۔ سپریم کورٹ نے خیبرپختونخوا حکومت کی گورننس پر سوال اٹھا دیے۔ عدالت نے اسپیشل سیکرٹری کا عہدہ تخلیق کرنے کے کیس میں چیف سیکرٹری کو طلب کر لیا اور سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کر دی ۔