Monday, December 6, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

 سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن اور محکمہ جنگلات کے درمیان مبینہ معاہدے کی اصل دستاویزات طلب کر لیں

 سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن اور محکمہ جنگلات کے درمیان مبینہ معاہدے کی اصل دستاویزات طلب کر لیں
August 18, 2015
اسلام آباد(92نیوز)سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون اور محکمہ جنگلات کے درمیان ہونے والے مبینہ معاہدے کی اصل دستایزات طلب کرلیں محکمہ جنگلات کی جانب سے اس وقت کے وزیر اعلی پنجاب پرویز الہی کو بھیجی جانے والی سمری کا ریکارڈ بھی طلب کرلیا۔ تفصیلات کے،مطابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے جنگلات کی زمین پر قبضے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔جسٹس قاضی فائر عیسی نے ریمارکس دیے کہ حکومت پاکستان کی زمین کے ایک ایک انچ کی کسٹوڈین ہے مالک نہیں، وفاقی حکومت اور پنجاب مانتے ہیں کہ بحریہ ٹاون  نے جنگلات کی زمین پر قبضہ کیا، حکومت نے جانتے بوجھتے بھی بحریہ ٹاون کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا حکوت پاکستان جنگلات کی مالک نہیں وہ یہ نہیں کہہ سکتی کہ جاو یہ زمین ہم نے تمہیں بخش دی ۔ جسٹس دوست محمد نے کہا کہ کچی آبادیوں پر راتوں رات آپریشن کرکے خالی کرالیا جاتا ہے: غریبوں کو ہی کچلا جاتا رہا تو جلد ملک میں  فرانس جیسا انقلاب آسکتا ہے ملک کو میکسکیو بنادیا ہے کراچی میں چائینہ کٹنگ اور راولپنڈی میں قبضہ جاری ہے اسلام آباد میں سی ڈی اے کے نظر کرم سے طاقت ور افراد قبضے کررہے ہیں۔ جنگلات کی زمین پر قبضے کرکے لگژری بنگلے بنائے گئے جن میں امیر اور کالے دھن والے پیش پیش رہے،،ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل رزاق مرزانے عدالت کو بتایا کہ جنگلات کی وہ زمین جس پر آج بحریہ ٹاون کھڑا ہے وہاں ایک مرلہ دس سے بیس لاکھ روپے میں بک رہا ہے۔ بحریہ ٹاون کے وکیل اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونے سے انکار کردیاان کا کہنا تھا کہ میں چھٹیوں پر ہوں جانتے ہوئے بھی سپریم کورٹ نے کیس آج لگادیا۔ پانچ ستمبر تک چھٹی پر ہوں ،سابق چیف جسٹس ناصر الملک نے میری چھٹی کی درخواست منطور کرکے کیس کو ملتوی کردیا تھا۔ جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ وکیل کو وکیل ہونا چاہیے اپنے موکل کے رنگ میں نہیں ڈھلنا چاہیے اگر اتنا حساس معاملہ ہے تو وکیل کو بھی سوچنا چاہیے کہ وہ عوام کے دکھ درد کو سمھجتا ہے یا اپنے موکل کوجسٹس دوست محمد نے ریمارکس  دیے کہ یہ پاکستان کی اعلیٰ عدالت ہے یہاں کسی فائل کو پہیے نہیں لگتے۔ عدالت نے تمام دستاویزات تک طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت 20 اگست تک ملتوی کر دی ۔