Friday, February 23, 2024

سپریم کورٹ نے ایئر مارشل ارشد ملک کو بطور سی ای او پی آئی اے بحال کر دیا

سپریم کورٹ نے ایئر مارشل ارشد ملک کو بطور سی ای او پی آئی اے بحال کر دیا
March 18, 2020

اسلام آباد ( 92 نیوز) سپریم کورٹ نے ایئر مارشل ارشد ملک کو بطور سی ای او پی آئی اے بحال کر دیا، آئندہ سماعت پر  ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ،  ارشد ملک کی جانب سے ایوارڈ کیے گئے ٹھیکوں کی تفصیلات بھی طلبکر لی گئیں ، چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جس کو گلگت گھومنے کا شوق ہوتا ہے وہ پوری فیملی کو جہاز میں بیٹھا کر لے جاتا ہے، ادارے سے کھلواڑ کرنے والے آج بھی کام کر رہے ہیں۔

سپریم کورٹ نے ایئر مارشل ارشد ملک کو بطور سی ای او پی آئی اے کام کرنے کی اجازت دے دی ، عہدے پر بحال کردیا ، چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی ، عدالت نے  قرار دیا کہ  جہازوں  کے تناسب سے زیادہ لوگ  ، سفار ش اور اقر باء پروری پر بھرتیاں پی آئی اے کی بدحالی کی وجوہات ہیں ۔

دوران سماعت سابق وزیراعظم کی جانب سے جہاز کے استعمال کا بھی تذکرہ ہوا ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے  کہبڑے ظالم لوگ ہیں پورا جہاز لے کر چلے جاتے ہیں ، کس کی اجازت سے جہاز لندن ائیرپورٹ کھڑا رہا، پارکنگ فیس کس نے دی؟ ۔

عدالت نے کہا کہ پی آئی اے کا مسئلہ تو حل ہو جائیگا، لیکن ائیرپورٹ پر کسٹم اور سول ایوی ایشن کا کیا کریں  ۔  کسٹم، ایف آئی اے سمیت تمام ادارے مافیا ہیں جو عوام  کی تضحیک کیلئے بیٹھے ہیں ، کراچی ائیرپورٹ پر جنہوں نے تشدد کیا وہ قابل شناخت ہیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے  کہ پی آئی اے میں پروفیشلز کو لانے کی ضرورت ہے ، پی آئی اے کی بہتری سے متعلق سیاسی حکومتوں کے بروقت فیصلے نہ لینے سے یہ حال ہوا  ۔

اٹارنی جنرل کے دلائل کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ ایئر مارشل ارشد ملک بطور سی ای او پی آئی اے کام جاری رکھ سکتے ہیں ، ساتھ ہی آئندہ سماعت پر پی آئی اے انتظامیہ اور یونین عہدیداروں کو طلب کر لیا۔

عدالت نے ارشد ملک کی جانب سے دئیے گئے ٹھیکوں کی تفصیلات بھی مانگ لی ، قرار دیا انتظامیہ آگاہ کرے کن ٹھیکوں کا جاری رہنا ضروری ہے اور کن کا نہیں  ، 20 اپریل کو دوبارہ سماعت ہوگی۔