Saturday, October 1, 2022

سپریم کورٹ نے آصف زرداری اور ان کے بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کر لیں

سپریم کورٹ نے آصف زرداری اور ان کے بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کر لیں
اسلام آباد ( 92 نیوز)این آر او کیس  میں عدالت عظمیٰ نے سابق صدر آصف زرداری ، بلاول بھٹو ، بختاور اور آصفہ کے اثاثوں کی تفصیلات طلب کرلیں ۔ عدالت نے اپنے 29 اگست کے حکمنامے پر جزوی نظرثانی کرتے ہوئے محترمہ بے نظیر بھٹو کی وراثت کی تقسیم  کی تفصیل مانگ لی تاہم محترمہ کے اثاثوں کی تفصیل کا حکمنامہ واپس لے لیا ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے  اثاثوں کی تفصیلات کے حوالے سے عدالت کے 29 اگست کے حکم کے خلاف دائر کی گئی آصف علی زرداری کی درخواست کی سماعت کی  جبکہ اس دوران چیف جسٹس  اور آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک کے درمیان محترمہ بے نظیر بھٹو کی وراثت کی تفصیلات طلب کرنے پر مکالمے بازی بھی ہوئی  ۔ سماعت کے دوران فاروق ایچ نائیک نے موقف اختیار کیا کہ عدالت بے نظیر بھٹو کی قبر کا ٹرائل نہ کرے ، جس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ اثاثوں کی تفصیلات مانگنا ٹرائل کرنا نہیں ہوتا ،آصف علی زرداری کو تو خوش ہونا چاہیے کہ اُنہیں صفائی کا موقع ملا ۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کا ٹرائل آصف زرداری کے دور میں ہوا تاہم  عدالت اُس ٹرائل پر مطمئن نہیں ہے  ،تاہم عدالت عظمیٰ نے اپنا 29 اگست کا حکم نامہ واپس لیتے ہوئے حکم دیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی وراثت کی تقسیم کی تفصیلات فراہم  کی جائیں ۔ دوسری طرف فاروق ایچ نائیک نے آصف زرداری کے اثاثوں کے حوالے سے عدالت میں دلائل دیئے کہ آصف زرداری 1997 سے 2005 تک جیل میں رہے  حالانکہ وہ آٹھ مقدمات میں شریک ملزم تھے اب اُن بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات مانگی جا رہی ہیں جو آصف زرداری کے زیر کفالت بھی نہیں تھے ،عدالت صرف زیر کفالت بچوں کی تفصیل مانگے ۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ قانون کہتا ہے کہ بیٹوں کی کفالت اُن کے بالغ ہونے پر جبکہ بیٹیوں کی کفالت اُن کی شادیاں کرنے پرختم ہو جاتی ہے  ،جس کے بعد  عدالت نے اگلے پندرہ روز میں اثاثوں کی تفصیلات طلب  کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ۔ واضح رہے این آر او کیس میں عدالت عظمیٰ نے 29 اگست کو  آصف زرداری کے  اندرون بیرون ملک دس سالہ اثاثوں کی تفصیلات طلب کیں تھیں ۔