Thursday, January 20, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

غیر ملکی اثاثہ جات کیس ،ایف بی آر میں پیش نہ ہونیوالوں کی جائیداد ضبط کرلیں ، سپریم کورٹ

غیر ملکی اثاثہ جات کیس ،ایف بی آر میں پیش نہ ہونیوالوں کی جائیداد ضبط کرلیں ، سپریم کورٹ
January 14, 2019
اسلام آباد ( 92 نیوز) سپریم کورٹ میں  غیر ملکی اثاثہ جات کیس کی سماعت کے دوران  چیف جسٹس پاکستان  میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ جو لوگ ایف بی آر میں پیش نہیں ہوئے ان کی جائیدادیں ضبط کر لیں ، غیرملکی جائیداد تسلیم کرنے والے جرمانہ ادا کریں  تاکہ  پاکستان کی حالت بہتر ہو ۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ  عدالت نوٹس نہ لیتی تو ایف بی آر آج بھی بیٹھا ہوتا ، ایف بی آر کو شریفوں کا تھانہ کہا جاتا ہے ، اب تک شریفوں کو اندر بٹھایا جانا چاہیے تھا ، عدالت نے ایک ماہ میں پیشرفت رپورٹ مانگ لی۔ آبادی میں اضافے سے متعلق سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ وسائل کم ہورہے ہیں ، آبادی کنٹرول پر فیصلہ کل سنائیں گے۔ سپریم کورٹ نے   آبادی کنٹرول سے متعلق ہر 3 ماہ بعد سفارشات پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم  دے دیا ۔ حکومت نے آبادی کنٹرول کرنے کا ایکشن پلان سپریم کورٹ میں پیش کیا،سیکرٹری صحت زاہد سعید نے بتایا کہ آبادی میں سالانہ 2.4 فیصد کا اضافہ ہو رہا ہے ، آبادی پر کنٹرول کے دو ہدف مقرر کئے ہیں ۔ایک ہدف 2025 اور دوسرا  2030 تک حاصل کیا جائے گا۔ سیکرٹری صحت کے مطابق 2025 تک آبادی بڑھنے کی شرح 1 اعشاریہ 5 فیصد جبکہ 2030 تک یہ شرح 1 اعشاریہ 4 فیصد ہو جائے گی ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ آبادی سے متعلق سروے کس حد تک مستند ہوتے ہیں، تھرڈ پارٹی سروے کس سے کرایا جاتا ہے؟،واضح کیا کہ سروے کے اعدادو شمار مستند نہیں ہونگے تو کوئی بھی پلان بیکار ہے حکومت نے ٹاسک فورس کی رپورٹ پر عمل نہ کیا تو تباہی ہو گی۔ چیف جسٹس نے حکومت اور عوام دونوں کو متبنہ کیا کہ آبادی کو کنٹرول نہ کیا تو تباہی آئے گی،ہمارے وسائل سکڑ رہے ہیں، ایک وقت آئے گا،  وسائل اور طلب میں خلا کو پر کرنا مشکل ہو جائے گا ،عدالت ٹاسک فورس کی سفارشات پر عملدرآمد کے معاملے کی نگرانی کرے گی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آبادی کنٹرول سے متعلق کیس پر فیصلہ لکھ چکے ہیں، جو منگل کو سنایا جائیگا۔ ساتھ ہی حکومت کو ہر 3 ماہ بعد ٹاسک فورس کی سفارشات پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم بھی دے دیا۔