Monday, January 24, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات کا کیس ،پارلیمنٹ میں بحث کا ریکارڈ طلب

سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات کا کیس ،پارلیمنٹ میں بحث کا ریکارڈ طلب
February 7, 2018

سپریم کورٹ ( 92 نیوز ) عدالت نے الیکشن ایکٹ 2017 پر پارلیمنٹ میں بحث کا ریکارڈ طلب کرلیا ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ کون صحیح ہے اورکون غلط ؟ ۔ فیصلہ لوگوں نے کرناہے۔ کسی کے ایکشن پر ردعمل کا اظہار نہیں کریں گے۔ عدالتیں ختم ہوجائیں تو پھر جنگل کاقانون ہوگا۔  آئین کی اصل یہ ہے کہ ملک کا حکمران دیانتدار ہو۔

سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات ایکٹ کیخلاف درخواستوں پرسماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو  الیکشن ایکٹ 2017 پر پارلیمنٹ میں بحث کا ریکارڈ جمع کرنے کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس نے راجہ ظفرالحق سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کل آپ کے ڈرانے والے لوگ نہیں آتے۔ ان لوگوں کو لے کر آئیں ذرا ہم بھی دیکھیں ہم ڈرتے ہیں یا نہیں۔

لطیف کھوسہ نے دلائل میں کہا کہ لوگوں کومعلوم ہے اس عدلیہ پر حملہ کس نے کیا ، عدالت اتنی رحم دلی نہ دکھائے کہ ریاست کو جھیلنا پڑے، چیف جسٹس نے کہا کہ ہم عوام کا اعتماد عدلیہ پر بحال کریں گے۔ کون صحیح ہے اورکون غلط ، اس کافیصلہ لوگوں نے کرناہے۔ توہین عدالت میں سزا 6 مہینے ہے لیکن اگرہم مطمئن ہو جائیں تو زیادہ سزا بھی دے سکتے ہیں۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کسی آئینی ادارے کودھکی دینا ، تنقید کرنا آرٹیکل 5کی خلاف ورزی ہے ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم جلسہ کرسکتے ہیں نہ لوگوں کوہاتھ کھڑا کرنے کا کہہ سکتے ہیں۔

 چیف جسٹس نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی شخص آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت غیر صادق و امین ہو تو کیا وہ پارٹی سربراہ نہیں بن سکتا؟۔ اگر کسی ادارے کا سربراہ ٹھیک نہ ہو تو پورا ادارہ خراب ہوتا ہے۔

 جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھاکہ حالیہ وزیراعظم کہتے ہیں نوازشریف میرا وزیراعظم ہے اور فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالیہ کی تضحیک اورتزلیل پرآرٹیکل 204 کے تحت سزا دے سکتی ہے  ۔یہاں عدالت کو سیکنڈلائز  کیا جارہا ہے ۔