Thursday, January 20, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

سپریم کورٹ ، گرینڈ حیات ٹاورکیس،بی این پی گروپ کو ساڑھے 17ارب ادا کرنیکا حکم

سپریم کورٹ ، گرینڈ حیات ٹاورکیس،بی این پی گروپ کو ساڑھے 17ارب ادا کرنیکا حکم
January 9, 2019
اسلام آباد ( 92 نیوز) بڑی عدالت نے ایک اور بڑا کیس نمٹا دیا ، گرینڈ حیات ٹور کی اپیل منظور کرتے  ہوئے بی ای پی گروپ کو 8سال میں ساڑھے 17 ارب روپے  سی ڈی اے کو ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ گرینڈ حیات ٹاور کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی ، دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ سی ڈی اے کا ماڑے (کمزور ) بندے کے ساتھ داؤ چل جاتا ہے لیکن عدالت کے ساتھ نہیں چل سکتا،سی ڈی اے سارے معاملے پر سویا رہا اور اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ  گرینڈ حیات کے دو ٹاور بن گئے ، لوگوں نے اپارٹمنٹس بھی خرید لئے ، جب ٹاور بن رہا تھا س وقت سی ڈی اے نے اعتراض نہیں کیا۔عدالت نے پہلا مفاد لوگوں اور دوسرا سی ڈی اے کا دیکھنا ہے، سرمایہ کار کا مفاد بھی قانون کے مطابق دیکھیں گے۔ سی ڈی اے کےوکیل نے موقف اختیار کیا کہ بی این پی گروپ نے زمین کی نیلامی میں حصہ نہیں لیا ،جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ کو یہ بات 13 سال بعد یاد آئی، لیز غیر قانونی ہے تو کیا دونوں ٹاورز گرا دیں؟،سی ڈی اے نے اپنی کسی دستاویزات میں بدعنوانی کا موقف نہیں اپنایااور سارے معاملے پر سویا رہا، کسی وزیر کے کہنے پر لیز منسوخ کی گئی،اختیارات کا غلط استعمال کیا، سی ڈی اے کا داؤ عدالت عظمیٰ کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آدھا اسلام آباد سی ڈی اے نے غلط بنایا ہوا ہے،ہر زون میں غلطیاں نکلتی ہیں،بنی گالہ میں آپ نے کیا کیا؟،سی ڈی اے کی یہ کارکردگی ہے،1960 سے آج تک ریگولیشنز نہیں بناسکے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ سی ڈی اے کو 15 ارب روپے مزید لے کر دے رہے ہیں ، تو ابھی تک ڈیم فنڈز کیلئے 15 ارب اکٹھا نہیں کرسکے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گرینڈ حیات پر وفاقی کابینہ اپنا فیصلہ کرے ہم میرٹ پر کیس کا فیصلہ دے دیتے ہیں، عدالت نے بی این پی گروپ کی ادائیگی کیلئے 15 سال کی مہلت دینے کی استدعا مسترد کردی۔ بی این پی کی اپیل منظور کرتے ہوئےگروپ کو ساڑھے سترہ ارب کی رقم 8 سال میں سی ڈی اے کو ادا کرنے کا حکم دےدیا،تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔