Thursday, January 20, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

سپریم کورٹ ، ایم ڈی پی ٹی وی تقرری کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا

سپریم کورٹ ، ایم ڈی پی ٹی وی  تقرری کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا
February 26, 2018

اسلام آباد ( 92 نیوز ) سپریم کورٹ میں ایم ڈی پی ٹی وی تقرری کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ، عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ عطاء الحق قاسمی پر اٹھنے والے اخراجات کا آڈٹ ہو گا۔

چیف جسٹس نے پرویز رشید سے کہا آپ سوچ لیں آپ پر بھی آرٹیکل 62 کا معاملہ ہو سکتا ہے، نوازشریف کو بھی بلایا جا سکتا ہے۔عدالت نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کی بھی سرزنش  کی ۔

سپریم کورٹ میں ایم ڈی پی ٹی وی تقرری کیس کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی،  چیف جسٹس نے پرویز رشید کو وکیل نہ کرنے  کے نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف آرٹیکل 62 کامعاملہ ہوسکتا ہے۔

دوران سماعت  چیف جسٹس نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد کی خوب سرزنش  کی اورکہا کہ  تم سب کام زبانی کرتے تھے؟۔ فواد حسن فواد نے کہا کہ سیکرٹری ٹو وزیراعظم اور سیکرٹری ٹو صدر اور گورنرکا اپنا کوئی اختیار نہیں ہوتا، تقرری کے لئے وزیراعظم کے زبانی حکم پر عمل کیاجاتا ہے۔

 ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کوبتایا کہ عطاءالحق قاسمی کی منظوری وزارت اطلاعات کی سمری پر ہوئی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کوئی رولز دکھا دیں کہ چیئرمین کو ملنے والے پانچ ہزار کو 15 لاکھ کیسے کر دیا گیا۔ قانون دکھا دیں ورنہ نواز شریف کو نوٹس جاری کر دیتے ہیں،نواز شریف اس وقت وزیر اعظم تھےآ کر نتائج بھگتیں۔

 فواد حسن فواد نے کہا کہ تقرر کی سمری بورڈ نے بھیجی، اسٹیبلشمنٹ اور فنانس نے اسکی توثیق کی، اسکے بعد وزیراعظم نے منظوری دی۔

وکیل عائشہ حامد نے کہا کہ عطاالحق قاسمی نے ملازمت کے لیے درخواست نہیں دی تھی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ  قاسمی اتنے معصوم تھے کہ آفر آئی اور دیکھے بغیر قبول کر لی۔

 چیف جسٹس نے ریمارکس میں  کہا کہ  اختیار کا یہ مطلب نہیں کہ جس کو چاہیں عہدے پر لگا دیں، تقرریوں میں بندر بانٹ کا اختیار نہیں، 15 دن میں 27 کروڑ روپے دائیگیوں کا اڈٹ کرائیں گے، آڈٹ ٹیم سے عدم تعاون کے ذمہ دار سیکریٹری اطلاعات ہونگے۔