Thursday, January 20, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

سپریم کورٹ،شریف خاندان اور اسحاق ڈار کیخلاف ریفرنسز کی سماعت کی مدت میں تین ماہ توسیع

سپریم کورٹ،شریف خاندان اور اسحاق ڈار کیخلاف ریفرنسز کی سماعت کی مدت میں تین ماہ توسیع
March 7, 2018

اسلام آباد ( 92 نیوز ) سپریم کورٹ نے شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنسز کی سماعت کی مدت  میں تین ماہ کی توسیع کردی ۔عدالت میں نیب نے شریف خاندان کیخلاف ریفرنسز کی پیشرفت رپورٹ جمع کرا دی ۔احتساب عدالت میں نوازشریف کیخلاف نیب ریفرنسز  کے لیےمدت 14 مارچ کو ختم ہو رہی ہے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی مدت ملازمت اور پاناما کیس عمل درآمد کی سماعت الگ الگ بنچ میں ہوئی ،چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی مدت ملازمت کے حوالے سے از خود نوٹس لیا اور سیکریٹری قانون کو فوری طلب کرلیا۔

سیکریٹری قانون کرامت حسین نیازی عدالت میں پیش ہوئے ،انہوں نے عدالت  بتایا کہ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی مدت ملازمت میں توسیع کی سمری منظوری ہوگئی ہے ،12 مارچ تک احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کی ملازمت میں توسیع کردی جائے گی ۔

چیف جسٹس جسٹس میاں ثاقب نثار نے حکم دیا کہ 10 مارچ تک ملازمت میں  توسیع دے کر رپورٹ سپریم کور ٹ میں جمع کرائی جائے ۔

دوسری جانب پانامہ عمل درآمد کیس کی سماعت ہوئی جس میں میں قومی احتساب بیورو کے ڈپٹی پراسیکوٹر سپریم کورٹ میں پیش ہوئے ،نیب حکام نے شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز کی پیش رفت رپورٹ جمع کرائی ۔

سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ احتساب عدالت کے جج نے مقدمہ میں توسیع کی وجوہات بتائی ہیں لیکن درکار وقت نہیں بتایا یہ بتا یا جائے کہ کتنا وقت چاہئے ۔احتساب عدالت میں استغاثہ کی ذمہ داری کون سنبھال رہا ہے ۔

نیب پراسیکوٹر نے عدالت کو بتایا کہ شریف خاندان کے خلاف ریفرنسز کی سماعت کیلئے مقررہ وقت میں دوماہ کی توسیع دی جائے کیونکہ شریف خاندان کے خلاف ضمنی ریفرنسز بھی دائر کئے ہیں ،تین ریفرنسز کے بیشتر گواہان کا بیان ریکارڈ ہوچکا ہے ۔

جس پر جسٹس اعجاز الحسن کا کہنا تھا کہ کافی حد تک تو کارروائی ہوچکی ہے ،ایڈیشنل پراسیکوٹر نیب عمران الحق نے سپریم کور ٹ کو بتایا اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنسز میں وقت لگے گا،اسحاق ڈار مفرور ہیں ۔

جسٹس اعجازالحسن نے کہا کہ اسحاق ڈار مفرور ہوتے ہوئے سینیٹر بن گئے ،عدالتی کارروائی  میں  مفرور کا کوئی حق نہیں ہوتا ،مگر اس تنازعے میں نہیں پڑنا چاہتے ہیں ۔

نیب پراسیکوٹر جنرل نے بتایا کہ شریف خاندان کے ریفرنسز کیلئے دو ماہ کافی ہونگے ،لیکن اسحاق ڈار کے ریفرنس پر ایک ماہ مزید لگے گا۔

عدالت نے شریف خاندان اور اسحاق ڈار کے خلاف ریفرنسز کی مدت سماعت میں تین ماہ کی توسیع کردی  ۔