Wednesday, November 30, 2022

سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کا معاملہ ، اسلام آباد ہائیکورٹ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پرکریگی

سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کا معاملہ ، اسلام آباد ہائیکورٹ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پرکریگی
اسلام آباد(92نیوز)سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کا معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کریگی۔عدالت نے ملوث افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی ہدایت کر دی۔ تفصیلات کےمطابق سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخی کامعاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس شوکت عزیزصدیقی نے سماعت کی۔ وزیرداخلہ چوہدر ی نثارعلی خان طلبی کے باوجود پیش نہ ہوسکے۔ سیکرٹری داخلہ عارف خان نے عدالت کے روبروموقف اختیارکیا کہ مواد کو دیکھ کر دکھ ہوا۔ مسلمان ہونے کے ناطے ایسا مواد کوئی بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے استفسار کیا کہ سیکرٹری صاحب یہ بتائیں کہ کیا کوئی کارروائی ہوگی؟؟عدالت کاکہنا تھا کہ معاملہ بہت حساس ہے۔ جلد از جلد اسکو حل کیا جائے۔ ہر بندے کو قانون کے بعد ٹریٹ کیا جائے گا۔ دوران سماعت جسٹس شوکت عزیز صدیقی پھر آبدیدہ ہوگئے کہنے لگے دل خون کے آنسو روہا ہے ادنیٰ  درجے کا مسلمان بھی نبی کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کرسکتا ۔ مذہبی انتہا پسندی سے کہیں زیادہ سیکولر انتہا پسندی ہے اگر محسن انسانیب کی توہین نہ روکی تو ملک میں خانہ جنگی شروع ہوجائیگی۔ ان کاکہنا تھا کہ بیرونی قوتیں پاکستان کےخلاف کام کررہی ہیں جب ریاست اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے تو پھر لوگ خود فیصلے کرتے ہیں۔ عدالت کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کریگی۔ چیئرمین پی ٹی اے نے عدالت کو بتایا کہ فیس بک پر ایسے پیچز کو بند کرنا شروع کردیا ہےعدالت نے سیکرٹری داخلہ کو گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث افراد کے نام ای سی ایل میں کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت کل تک موخر کردی۔