Friday, December 2, 2022

سپریم کورٹ کا مشرف کی غیر موجودگی میں بھی ٹرائل مکمل کرنیکا حکم

سپریم کورٹ کا مشرف کی غیر موجودگی میں بھی ٹرائل مکمل کرنیکا حکم

اسلام آباد ( 92 نیوز) سپریم کورٹ نے سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کی غیر موجودگی میں بھی ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت کے بعد چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلہ سنایا اور قرار دیا کہ پرویز مشرف کی کسی بھی سچی، جھوٹی میڈیکل رپورٹ کو قبول نہیں کیا جائے گا، مفرور ملزم کے کوئی حقوق نہیں ہوتے۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ملزم اگر پیش نہیں ہوتا تو سیکشن 342 کے تحت بیان ریکارڈ کرانے کی سہولت بھی نہیں ہوگی ، جان بوجھ کر غیر حاضری کے بعد کارروائی غیر حاضری کے زمرے میں تصور نہیں ہوگی۔

دوران سماعت سابق صدر کے وکیل سلمان صفدر نے اپنے موکل کی واپسی کیلئے ذاتی ضمانت سے انکار کردیا  ، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ  ملزم کی عدم موجودگی میں ٹرائل غیر آئینی ہوتا ہے ، لیکن ملزم جان بوجھ کر پیش نہ ہو تو اس کو فائدہ نہیں اٹھانے دے سکتے، سنگین غداری کوئی معمولی جرم نہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ سابق صدر کے پیش نہ ہونے پر ان کا دفاع کا حق ختم ہو جائے گا، مشرف دو مئی کو پیش نہیں ہوتے تو خصوصی عدالت استغاثہ کو سن کر فیصلہ کرے۔

سپریم کورٹ نے مشرف کی غیر موجودگی میں بھی ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دے دیا ۔