Thursday, September 29, 2022

سنگھاڑے !!! موسم سرما کی قوت بخش غذا

سنگھاڑے !!! موسم سرما کی قوت بخش غذا
لاہور (ویب ڈیسک) موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی جہاں اکثر دکانیں انواع و اقسام کے خشک میوہ جات سے سج جاتی ہیں وہیں ایک میوے یا پھل کی وہ عزت افزائی نہیں کی جاتی جس کا وہ مستحق ہے۔ یہ میوہ یا پھل دیکھنے میں تو کوئی خوبصورتی نہیں رکھتا البتہ اس کا ذائقہ اور غذائیت دیگر تمام خشک میوہ جات کے ہم پلہ ہے۔ جی ہاں ناریل جیسا ذائقہ رکھنے والی اس چیز کو سنگھاڑا کہا جاتا ہے۔ سنگھاڑا کی افزائش اگرچہ گندے پانی میں ہوتی ہے مگر اس کے چھلکے کے اندر چھپی دل سے مشابہ سفید گری غذائیت سے بھرپور اور انسانی صحت پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہیں۔ Water-chestnut   پاکستان میں یہ عموماً موسم سرما کے مہینوں میں ہی نظر آتے ہیں۔ سنگھاڑے ایک خاص طریقے سے پکائے جاتے ہیں۔ پکانے سے پہلے سنگھاڑوں کو صاف پانی سے دھویا جاتا ہے کیونکہ اس پر مٹی اور گاڑا جما ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک گہرائی والے برتن میں پانی ڈال کر انہیں ابالا جاتا ہے اور آخری مرحلے میں سنگھاڑوں کا رنگ کالا کرنے کیلئے اس میں ایک خاص قسم کا رنگ شامل کر کے دم دے دیا جاتا ہے۔ دم کے بعد سنگھاڑے تیار ہو جاتے ہیں اور برتن سے نکال کر ٹھنڈے ہونے پر ان سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے۔ سنگھاڑوں کے سر پر دو نوکیلے کانٹے ہوتے ہیں اس لیے اسے ایک خاص مہارت سے کاٹا جاتا ہے اور عموماً چھابڑی یا ریڑھی فروش اس کا ہنر جانتے ہیں۔ Water Chestnuts   سنگھاڑے غذائیت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ تازہ سنگھاڑے کاربوہائیڈریٹس، پروٹین، آئرن، آیوڈین سے بھرپور ہوتے ہیں جبکہ ان میں میگنیشم، کیلشیئم، پوٹاشیم، زنک، کاپر اور ملٹی وٹامنز کی مقدار دگنی ہوتی ہے چونکہ اس میں فیٹ نہیں ہوتا اس لیے یہ جسمانی وزن کو برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ سنگھاڑے پولی فینولک اور فلیونوئڈ اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتے ہیں جو بیکٹریا اور وائرس کش ہونے کے ساتھ ساتھ کینسر کی روک تھام کا کام بھی کرتے ہیں جبکہ معدے اور تلی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ تلی میں آنے والی کمزوری کی علامات جیسے منہ کا ذائقہ خراب ہونا، نیند نہ آنا، خود کو بیمار محسوس کرنا، تھکاوٹ، سوجن یا پیشاب کے انفیکشن کو بھی دور کرتے ہیں۔ زہریلے اثرات دور کرنے کی خصوصیت کے ساتھ یہ پھل ان افراد کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے جو یرقان کا شکار ہوں۔ اسی طرح یہ تھائی رائیڈ (گردن میں سانس کی نالی کے قریب بے نالی غدود) کو مناسب طریقے سے کام کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جسم کو ٹھنڈا کرنے، منہ میں لعاب دہن کو بڑھاتا ہے اور پیاس بجھانے کا کام بھی کرتا ہے۔ یہ پھل پیشاب کے انفیکشن کے لیے بھی مفید ہے، سوجن کو دور کرتا ہے اور خون کو صاف کرتا ہے۔ سنگھاڑے توانائی بڑھا کر تھکاوٹ کو دور بھگاتے ہیں اور زخموں سے خون کے بہاو کو کنٹرول کرنے کے ساتھ متوازن سوڈیم کے باعث بلڈ پریشر اور پانی کو ریگولیٹ کرتے ہیں۔ نظام ہاضمہ اور متلی وغیرہ کی شکایات کے علاج میں سنگھاڑے مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ جگر میں جمع ہونے والے کچرے کی مناسب صفائی، بلغم اور اضافی خون کا علاج، ہیضے اور پیچش کو کنٹرول، گلے کی سوزش، خون کی کمی، فریکچر اور پھیپھڑوں کے ورم جیسے عوارض کے لیے بھی سنگھاڑے فائدہ مند ہیں۔ Water-chestnut1