Friday, December 2, 2022

سندھ ہائیکورٹ کا صوبے کے تمام شراب خانے بند کرنے کا حکم

سندھ ہائیکورٹ کا صوبے کے تمام شراب خانے بند کرنے کا حکم

کراچی (92نیوز) سندھ ہائی کورٹ نے صوبہ بھر میں قائم شراب خانوں کو بند کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے تیس دن میں رپورٹ طلب کر لی۔ شراب خانوں کی بندش کے حوالے سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ، ڈی جی ایکسائز پربرہم ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے کراچی سمیت صوبہ بھر میں قائم شراب خانوں کو بند کرنے کے احکامات جاری کردیے۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ تھر کے غریب ہندو کو پینے کا پانی نہیں ملتا شراب کہاں سے خریدے گا۔ جہاں پیسہ ہے وہاں شراب زیادہ فروخت ہوتی ہے۔ سندھ بھر میں ایک سو بیس شراب خانے ہیں جن میں سے آدھے سے زیادہ کراچی میں ہیں۔ سات سات ہزار کریٹ صرف ڈسٹرکٹ ساوتھ میں فروخت ہوئے۔

بشپ خادم بھٹو کا کہنا تھا کہ کیسا قانون ہے مسیحی برادری کے روزے چل رہے ہیں اور شراب کی دھڑادھڑ فروخت جاری ہے۔ اقلیتوں کا احترام کیا جائے اور شراب خانوں کو فوری بند کیا جائے۔

مقدمے کی سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مکمل رپورٹ پیش کرنے کے لیے عدالت سے مزید وقت مانگ لیا۔

سلیم مائیکل ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ پہلے پرمٹ پر چرچ کے فادر کے دستخط ہوتے تھے مگر فادر کے انکار کے بعد محکمہ ایکسائیز نے ازخود شناختی کارڈ پرشراب کی فروخت شروع کردی ہے جس پر عدالت کا کہنا تھا کہ ملک میں کوئی نظام نہیں، ایسے تو کوئی بھی مسلم کرسچین اور ہندو دوست کے شناختی کارڈ پر شراب لے کر پیتا پھرے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ اور عامر رضا ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ کمپیوٹرائزڈ آن لائن بائیومیٹرک سسٹم رائج کرکے شراب کی فروخت کو ریگولیٹ کیا جائے جس پر عدالت نے حکم دیا کہ جب تک راشن کارڈز کے طرز کا میکنزم نہ بن جائے صوبے بھرکے شراب خانوں کو بند کر کے تیس دنوں میں رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔