Tuesday, January 31, 2023

سندھ کی اہم سیاسی شخصیت کے گردگھیراتنگ،84ارب کی منی لانڈرنگ کے شواہد مل گئے

سندھ کی اہم سیاسی شخصیت کے گردگھیراتنگ،84ارب کی منی لانڈرنگ کے شواہد مل گئے
کراچی ( 92 نیوز) سندھ کی اہم سیاسی شخصیت کے گرد گھیرا مزید تنگ  ہو گیا ہے ، کراچی کے علاقے کلفٹن میں 46 جائیدادوں کیلئے 84 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے شواہد مل گئے ۔ معروف سیاسی شخصیت کے فرنٹ مینوں نے جائیدادیں خریدیں   جس کا جےآئی ٹی نے سراغ لگا لیا ،اہم انکشافات پر مبنی خبر روزنامہ 92 میں شامل ہے ۔ ذرائع کے مطابق 2008 سے 2014 کے درمیان سیاسی شخصیت کے  فرنٹ مینوں کی طرف سے 84 ارب روپے لاگت کی بیش قیمت 46 جائیدادیں منی لانڈرنگ کی رقم سے خریدنے کا انکشاف ہوا۔ اہم سیاسی شخصیت کی ملکیت نجی کمپنی سمیت4کمپنیوں کے ذریعہ رقم ایک سے دوسرے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی،کے ڈی اے ، کے ایم سی اوربورڈ آف رونیو افسران کی طرف سے جائیداد کی خریداری اورمنتقلی میں سہولت کاری کی گئی۔ جے آئی ٹی نے کراچی کے علاقے کلفٹن میں اہم سیاسی عمارت  کے اطراف 84 ارب کی 46بیش قیمت جائیدادوں کی خریداری میں بعض جعلی اورنجی کمپنیوں کے اکاؤنٹس کے ذریعہ منی لانڈرنگ کا پیسہ استعمال ہونے کا پتہ چلالیا جبکہ حکومت سندھ کے ماتحت مختلف اداروں کے سربراہوں کی جانب سے بطورسہولت کارکردارادا کرنے کے بھی شواہد مل گئے ۔ جے آئی ٹی ذرائع کے مطابق کلفٹن میں واقع 7،891 مربع گز کے ایک مقبوضہ پلاٹ کی فروخت میں رقم کی ادائیگی، بعدازاں ملٹی سٹوری بلڈنگ کی تعمیر کے علاوہ دوسری قیمتی جائیداد کی خریداری میں 4نجی کمپنیوں کے ذریعہ رقوم کی ایک سے دوسرے اکاؤنٹ میں منتقلی کیلئے بعض جعلی اکاؤنٹس کے استعمال اور حکومت سندھ کے 5مختلف محکموں کے افسران کی جانب سے سہولت کاری کے ٹھوس شواہد ملے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ، کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن، کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی، سندھ بورڈ آف ریونیو سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے بعض افسران کی جانب سے جائیداد کی خریدو فروخت اوراس کی منتقلی کو قانونی حیثیت دینے کے لیے سہولت کاری کی گئی۔ جے آئی ٹی نے مذکورہ معاملے کی تحقیقات سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مالی نگرانی یونٹس (ایف ایم یو) سے مشکوک ٹرانزیکشن رپورٹس (STRs) کی رسید پرشروع کی تھی۔ دوسری جانب جے آئی ٹی نے مذکورہ معاملے کی مزید تحقیقات کیلئے سندھ بورڈ آف ریونیو کے اعلیٰ عہدیدارسبحان میمن، کے ڈی اے کے نجم الزمان، کے ایم سی کے روشن علی شیخ اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے آغا مسعود اوران محکموں کے دیگرمختلف افسران کوتفتیش کیلئے طلب کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔