Friday, January 27, 2023

سندھ میں پولیس کیلئے نیاقانون حکومت کے گلے کی ہڈی بن گیا

سندھ میں پولیس کیلئے نیاقانون حکومت کے گلے کی ہڈی بن گیا
کراچی ( 92 نیوز ) سندھ میں پولیس کیلئے نیاقانون حکومت کے گلے کی ہڈی بن گیا۔   سندھ حکومت پولیس آرڈر 2002 بحال کرکے قانون سازی کے ذریعے پولیس افسران کے تبادلے اور تقرریوں کا اختیار وزیراعلیٰ کے پاس رکھنا چاہتی ہے ،دوسری جانب اپوزیشن نے پولیس افسران کے تبادلے اور تقرریوں کا اختیار وزیراعلیٰ کو دینے کی مخالفت کردی۔ سندھ میں پولیس کیلئے نئے قانون کے معاملے پر سندھ سرکار اور اپوزیشن میں ٹھن گئی اور مجوزہ مسودہ قانون پر ڈیڈلاک پیدا ہوگیا ۔ اپوزیشن جماعتوں نے پولیس آرڈر 2002 کی بحالی کا مجوزہ مسودہ مسترد کردیا  ، اپوزیشن کا کہنا ہے پیپلزپارٹی مشرف دور کے پولیس قانون کو 2011 کی صورتحال پر بحال کرکے پولیس کو اپنے ماتحت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ سلیکٹ کمیٹی کے رکن حلیم عادل شیخ نے اعتراضات پر مبنی خط کمیٹی کے تمام ارکان کو ارسال کردیا  ، جس میں کہا ہے کہ انتظامی اختیارات آئی جی سندھ کے پاس ہونے چاہئیں۔اس سلسلے میں آئی جی کے اختیارات سَلب کرنا عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی ہے  جبکہ پولیس اور آئی جی کو محکمہ داخلہ کے ماتحت کرنا خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔