Monday, October 3, 2022

سندھ میٹرک بورڈ نے لوٹ سیل لگا دی ، ایک پرچہ پاس کرانے کا ریٹ 15 ہزار روپے مقرر

سندھ میٹرک بورڈ نے لوٹ سیل لگا دی ، ایک پرچہ پاس کرانے کا ریٹ 15 ہزار روپے مقرر
 کراچی (92 نیوز) عجب کرپشن کی ایک اور غضب کہانی شروع ہو گئی۔ پیسے دو مرضی کا نتیجہ لو کا سلسلہ چل نکلا۔ سندھ میٹرک بورڈ میں ایک پرچہ پاس کرانے کا ریٹ 15 ہزار روپے ہونے کا انکشاف ہو گیا۔ کرپٹ افسران نے سندھ میٹرک بورڈ کو پیسے بنانے  کی مشین بنا لیا۔ پیسوں کے عوض طلبہ کو پاس کرنے لگے۔ اے ون گریڈ کے ساتھ میٹرک کی سندھ ڈیڑھ لاکھ روپے میں دستیاب ہونے لگا۔ نائنٹی ٹو نیوز کے پروگرام نائٹ ایڈیشن میں انکشاف کیا گیا کہ ریاضی کے پرچے میں 10 نمبر لینے والے طالب علم کو 59 نمبر دیئے گئے۔ مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کرنے پر تعلیمی بورڈ کے ذمہ داران بہانے بناتے رہے۔ چیئرمین بورڈ ڈاکٹر سعید الدین کا پی اے ضیاالحق ایجنٹوں کے ساتھ ڈیلنگ میں براہ راست ملوث ہونے کا انکشاف بھی ہوا۔ نائنٹی ٹو نیوز کے اسٹنگ آپریشن نے بھانڈا پھوڑ دیا۔ مؤقف جاننے کے لیے رابطہ کرنے پر ڈاکٹرسعید الدین نے بات کرنے سے انکار کر دیا۔ نائنٹی ٹو نیوز نے چیئرمین ریسرچ کمیٹی  کا مؤقف جاننے کی کوشش کی تو انہوں نے بھی سونے کا بہانہ بنا کر جواب نہیں دیا۔ پروگرام نائٹ ایڈیشن میں بات کرتے ہوئے وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا کہنا تھا کہ کسی کے خلاف کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ چیزیں ہمیں دیں اس کو سزا دلوائیں گے۔ ڈاکٹرسعید الدین پر نتائج، امتحانی مراکز کی خریدوفروخت اور فیس معافی کے غلط استعمال کا الزام ہے جب کہ وہ کاپیوں کی چھپائی،عمارت کی تزین وآرائش ، فرنیچر کی خریداری، ٹھیکوں اور اسکالر شپ میں مبینہ ہیر پھیر میں بھی ملوث ہیں۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ سندھ نے 90 کروڑ کی کرپشن میں ملوث چیئرمین بورڈ کو مزید تین سال کے لیے تعینات کرنے  منظوری بھی دے دی ہے۔