Monday, October 3, 2022

سندھ غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ ازخود نوٹس کیس، وفاق سے پریزنٹیشن، نیپرا سے رپورٹ طلب

سندھ غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ ازخود نوٹس کیس، وفاق سے پریزنٹیشن، نیپرا سے رپورٹ طلب
اسلام آباد (92 نیوز) سپریم کورٹ نے سندھ میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کیخلاف ازخود نوٹس کیس میں وفاقی حکومت سے 2 ہفتے میں پریزنٹیشن اور نیپرا سے چار ہفتے میں رپورٹ طلب کرلی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کے الیکٹرک کے کسی شرما ورما سے تعلق کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ جب کمپنی ممبئی سے کنٹرول ہوگی توایسا تو ہوگا، جس کی مرضی حکومتی اداروں کا استحصال کرے۔ کوئی روکنے والا نہیں۔ پورا ملک پریشان ہے۔ وفاق ذمہ داری پوری نہیں کررہا۔ حکومت میں صلاحیت ہی نہیں۔ سندھ میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف ازخود نوٹس کی چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ ریمارکس دیئے کہ کراچی میں بجلی کا مسئلہ جوں کا توں ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں کچھ نہیں کررہیں۔ لوگوں کو ہائی جیک کیا ہوا ہے۔ حکومت کی کمزوری کا سب ادارے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ آدھا کراچی اندھیرے میں ڈوبا ہوتا ہے۔ کے الیکٹرک کے سرمایہ کاروں پر شبہات ہیں۔ عدالتی استفسار پر شان عشری نے بتایا کہ ان کا پورا نام شان عباس عشری ہے۔ وہ پاکستانی ہے۔ وفاداری پرشک نہ کیا جائے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ پاکستان سے وفادار ہوتے تو کے الیکٹرک اور پاکستان کے عوام کا یہ حال نہ ہوتا۔ یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوگی۔ ان کی پشت پر کوئی اور ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے نیپرا اور پاور ڈویژن کے تمام ملازمین کو فارغ کر دیتے ہیں۔ ان کے ہونے کا کوئی فائدہ ہی نہیں۔ این ٹی ڈی سی اور پی ٹی ڈی سی جیسے ادارے اربوں روپے لے کر زیرو سروس دے رہے۔ آج پھر بجلی کی قیمت بڑھا دی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کارپوریٹ معاملات الجھے ہوئے ہوتے ہیں۔ سامنے کوئی اور ہوتا ہے اور پیچھے کوئی اور۔ سارے عمل میں آخر میں فائدہ کوئی اور لے جاتا ہے۔ کے الیکٹرک والٹ ڈیفالٹر ہیں۔ حکام کو جیل بھیجنا چاہیے۔ کے الیکٹرک والوں پر بھاری جرمانہ عائد کر سکتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کے الیکٹرک پیسے بنا رہی ہے، وہ پروفیشل کمپنی نہیں۔ معاملے پر اِن چیمبر بریفنگ کی استدعا کی تو چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ سے کچھ نہیں ہونا۔ کے الیکٹرک چند افراد کی کھچڑی بنی ہوئی ہے۔ اِن کو سامنے لانا ہوگا۔ ایسی خراب صورتحال میں شنگھائی الیکٹرک والے کیوں آئیں گے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کی بریفنگ کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 4 ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔