Sunday, October 2, 2022

سندھ حکومت کی نااہلی ،کراچی کے مافیا  کیلئے پانی چوری ایک منافع بخش کاروبار بن گیا

سندھ حکومت کی نااہلی ،کراچی کے مافیا  کیلئے پانی چوری ایک منافع بخش کاروبار بن گیا
کراچی(92نیوز)حکومت سندھ کی غفلت اور واٹربورڈ کی نااہلی کے سبب پانی چوری میں ملوث مافیا اتنی تیزی اور بڑی تعداد میں وجود میں آرہے ہیں کہ پانی چوری ایک انتہائی نفع بخش کاروبار کی شکل اختیار کرگیا ہے ، جنم لینے والی ایسی ہی ایک مافیا کا کھوج لگاتے ہوئے نائنٹی ٹو نیوز کراچی کے نمائندے شاہ ولی اللہ جاپہنچے نیٹی جیٹی پل تک۔ شاہ ولی اللہ کہتے ہیں کہ شرجیل انعام میمن کااعتماد اور سکون ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے کراچی کے شہریوں کو ان کی توقعات سے زیادہ بلدیاتی سہولیات فراہم کررکھی ہیں مگر صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے خصوصاً پانی کی بوند بوند کو ترستے ہوئے کراچی نے محکمہ بلدیات اور واٹربورڈ کی مجرمانہ غفلت اور بے پروائی کا پول کھول کررکھ دیا ہے ۔ شہریوں کی داد رسی اور پانی چوری روکنے کے لیے جوکام حکومت نہ کرسکی وہ نائنٹی ٹو نیوز نے کردکھایا اور پانی چوری کا ایسے طریقہ کار کا کھوج لگایا کہ جو شاید اب تک کسی کے تصور میں نہیں مگر واٹربورڈ بھی سو رہا ہے اور وزیر موصوف کا محکمہ بھی بے خبر ہیں ۔ جی ہاں ! کراچی پورٹ ٹرسٹ کے قریب نیٹی جیٹی پل کے نیچے سے گذرنے والی پانی کی 24انچ قطر کی لائن توڑ کر واٹرٹینکر نہیں بلکہ لانچوں کے ذریعے دھڑلے سے پانی چوری کیاجارہا ہے یہ لائن کراچی کے قریب واقع کئی جزائر اور ساحلی علاقوں کو پانی فراہم کرتی ہے مگر یہ پانی ان علاقوں تک پہنچنے سے پہلے ہی چوری کرلیا جاتا ہے حساس قرار دیئے گئے اس علاقے میں لانچوں پر دیوہیکل ٹینکر رکھ کر اور پانی کی لائنیں چھلنی کرکے جس دیدہ دلیری سے پانی چوری کیاجارہا ہے وہ ظاہر کرتا ہے کہ کراچی انتظامیہ کس قدر چوکس ہے۔ لائنوں چوری شدہ پانی بڑی بڑی لانچوں پر لدے ٹینکروں کے ذریعے قلت آب کا شکار جزائر اور ساحلی علاقوں میں پہنچایا جاتا ہے اور 50سے 100روپے گیلن فروخت کیا جاتا ہے جبکہ ان علاقوں میں وزیرموصوف کے عنایت کردہ واٹرٹینکر مفت تقسیم ہونے سے پہلے فروخت ہوجاتے ہیں نیٹی جیٹی پل کے نیچے توڑی گئی لائن سے لانچیں ہی پانی چوری نہیں کرتیں بلکہ اطراف کے بڑے ہوٹل اور ریسٹورنٹ بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں ۔ pani2 pani3 pani4