Monday, September 26, 2022

سنتھیارچی کو ملک بدر کرنے کا کیس ، عدالت کا وزارت داخلہ کی رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار

سنتھیارچی کو ملک بدر کرنے کا کیس ، عدالت کا وزارت داخلہ کی رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار
اسلام آباد(92 نیوز) سنتھیارچی کو ملک بدر کرنے کے کیس میں عدالت نے وزارت داخلہ کی رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا اور سیکرٹری داخلہ کو رپورٹ پر نظرِ ثانی کا حکم دے دیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے امریکی شہری سنتھیا ڈی رچی ‏کو ملک بدر کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ سنتھیا رچی اپنے وکیل کے ساتھ پیش ‏ہوئیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ آخری سماعت پر وزارت داخلہ کا جواب جمع ‏کر چکا ہوں۔ سنتھیا ڈی رچی کے پاس 31 اگست تک پاکستان کا ویزہ ہے۔ درخواست ‏گزار کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ سنتھیا رچی کے خلاف ایف آئی اے میں کیسز ‏چل رہے ہیں۔ امریکی خاتون پاکستانی شہری نہیں تو سرکاری ادروں کے ساتھ کام ‏کیسے کیا؟ چیف جسٹس نے سیکرٹری داخلہ کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس ‏دئیے کہ سنتھیا رچی کے حوالے سے وزارت داخلہ کی رپورٹ سے غلط تاثر دیا گیا۔ ‏رپورٹ میں کہا گیا کہ خاتون خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ کام ‏کر رہی ہے، کیا وفاقی حکومت سو رہی تھی۔ امریکی خاتون نے بڑے سنگین الزامات ‏لگائے۔ کسی بھی غیرملکی کو ملک کے ساتھ کھیلنے کا کوئی حق نہیں۔ ‏چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کس قانون اور ایگریمنٹ کے تحت غیرملکی کے ساتھ کام ‏کیا گیا۔ یہ عدالت کسی بھی مفروضے کو نہیں مانتی۔ کوئی بندہ پولیس سٹیشن تک نہیں گیا۔ ‏ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مزید وقت مانگنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ الزامات کے ‏خلاف ایف آئی اے کی کارروائی جاری ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس ‏رپورٹ کے ساتھ آپ ملک کی امیج کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ ‏کو رپورٹ پر نظرِثانی کا حکم دیتے ہوئے سماعت 4 اگست تک ملتوی کر دی۔