Wednesday, October 5, 2022

سمندر ی طوفان ”کیار “سے ساحلی پٹی متاثر، 21 دیہات زیر آب، ایمر جنسی نافذ

سمندر ی طوفان ”کیار “سے ساحلی پٹی متاثر، 21 دیہات زیر آب، ایمر جنسی نافذ
کراچی (92 نیوز) سمندری طوفان” کیار“ سے پاکستان کی ساحلی پٹی متاثر، طغیانی کے باعث پانی ابراہیم حیدری، ریڑھی گوٹھ و لٹھ گوٹھ کی آبادی میں داخل ہوگیا، جزیرہ بابا بھٹ، منوڑا، کیماڑی سمیت دیگر مقامات بھی طوفان سے متاثر ہوئے، حفاظتی بند ٹوٹنے سے 21 دیہات زیر آب آگئے، پانی کے چڑھائو کے باعث ہاکس بے روڈ بند کر دیا گیا۔ میئر کراچی نے ایمرجنسی نافذ کر دی۔ بحیرہ عرب میں سمندری طوفان "کیار" کے اثرات سے کراچی کی ساحلی پٹی بھی متاثر ہوگئی، سمندری طوفان کیا ر کے باعث گوٹھوں کے حفاظتی پشتوں پر دبائو بڑھنے لگا، گوادر اور پسنی میں بھی سمندری لہریں شاہراہوں پر آگئیں، کشتیاں ساحل سے دور لنگر انداز جبکہ ماہی گیروں کے سمندر میں جانے پر پابندی عائد کردی گئی۔ گزشتہ رات سمندر میں طغیانی نے کنارے پر قائم آبادیوں کو جل تھل کر دیا، گھروں میں پانی داخل ہونے پر علاقہ مکین ساری رات پانی نکالتے رہے، صبح کے وقت بھی پانی گلیوں اور سڑکوں پر موجود رہا، مکینوں نے حکومت سے مدد طلب کرلی۔ کراچی کے جزیرے بابا بھٹ، منوڑا، کیماڑی اور دیگر مقامات بھی طوفان سے متاثر ہوئے، پانی جمع ہونے کے باعث منوڑہ روڈ بھی بند کردی گئی جبکہ ڈام بندر، اور کنڈ ملیر کے گھروں اور ڈی ایچ اے گالف کلب میں بھی سمندری پانی داخل ہوگیا جس کے باعث گالف کلب کے مختلف گولز بھی زیر آب آگئے، ہاکس بے روڈ پر بھی سمندی پانی آگیا جس کے بعد اسے بند کر دیا گیا۔ وزیراطلاعات سعیدغنی نے چشمہ گوٹھ، ریڑھی گوٹھ اور لٹھ بستی کا دورہ کیا اور سمندری پانی داخل ہونے سے صورتحال کا جائزہ لیا۔ دوسری جانب میئر کراچی نے بلدیہ عظمیٰ میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے فائر بریگیڈ، میونسپل سروسز، سٹی وارڈنز، ریسکیو اور اسپتالوں میں ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل اسٹاف کو ڈیوٹی پر موجود رہنے کی ہدایت کردی۔ سمندری طوفان کیار سے ٹھٹھہ اور سجاول بھی متاثر، طغیانی اور حفاظتی بند ٹوٹنے سے اکیس دیہات زیر آب آگئے، ٹھٹھہ میں سمندری بند ٹوٹنے سے 5 گائوں زیرآب آئے، جس کے بعد لوگوں نے نقل مکانی شروع کر دی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تاحال کوئی اقدامات نہیں کئے گئے۔