Friday, October 7, 2022

سمندری راستے سے آنے والے تارکین وطن یورپی ممالک کیلئے مسئلہ، رواں سال ساڑھے چھیالیس ہزار تارکین وطن نے اٹلی کا رخ کیا

سمندری راستے سے آنے والے تارکین وطن یورپی ممالک کیلئے مسئلہ، رواں سال ساڑھے چھیالیس ہزار تارکین وطن نے اٹلی کا رخ کیا
اٹلی (ویب ڈیسک) سمندری راستے سے آنے والے تارکین وطن نے یورپی ممالک کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔ بحیرہ روم سے بچائے جانے والے مزید تین سو بہتر تارکین وطن کو سسلی بندرگاہ پہنچا دیا گیا ہے۔ شمالی افریقہ سے یورپ میں داخل ہونے کے لیے کشتیوں کے ذریعے خطرناک سفر کرنے والے تارکین وطن کو اٹلی کے کوسٹ گارڈز نے بچایا تھا اور یہ تمام تارکین وطن ایک ہی کشتی میں سوار تھے، اب تک یورپ میں داخل ہونے کے چکر میں اٹھارہ سو سے زائد افراد سمندر میں ڈوب کر جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ ادھر برطانیہ، سویڈن، اسپین اور اٹلی کے بحری جہازوں کے عملے نے پندرہ کشتیوں میں سوار دو ہزار چار سو تارکین وطن کو سمندر میں ڈوبنے سے بچا لیا۔ یورپی ممالک کے لیے تارکین وطن سے نمٹنا ایک گھمبیر مسئلہ بن چکا ہے، اتنی بڑی تعداد میں تارکن وطن کو سنبھالنے کے معاملے نے اٹلی کی حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ رواں سال پانچ ماہ کے دوران ساڑھے چھیالیس ہزار تارکین وطن نے اٹلی کا رخ کیا ہے۔