Monday, January 30, 2023

سلطان راہی آج زندہ ہوتے تو زندگی کی تراسی بہاریں دیکھ چکے ہوتے

سلطان راہی آج زندہ ہوتے تو زندگی کی تراسی بہاریں دیکھ چکے ہوتے

لاہور (92 نیوز) فن کی دنیا کے بے تاج بادشاہ اور پنجابی فلموں کی پہچان اداکار سلطان راہی آج زندہ ہوتے تو اپنی زندگی کی تراسی بہاریں دیکھ چکے ہوتے۔

پاکستان میں فن کا سلطان ایک ہی شخص کہلایا جسے سلطان راہی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اکتالیس سال تک فلموں کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جانے والے سلطان راہی چوبیس جون انیس سو اڑتیس کو اترپردیش میں پیدا ہوئے۔

سلطان راہی نے آٹھ سو سے زائد فلموں میں اپنی منفرد اداکاری کے جوہر دکھائے جن میں سات سو پنجابی، ایک سو دس اردو فلمیں شامل ہیں۔ سلطان راہی نے ستر کی دہائی میں فلم بشیرا سے انڈسٹری میں ایسی انٹری دی کہ فلموں کا ایکسٹرا اداکار فن کا سلطان کہلایا۔ انیس سو اسی میں بشیرا اور مولا جٹ جیسی فلموں کی کامیابی نے سلطان راہی کو بام عروج پر پہنچا دیا۔

سلطان راہی کی موت کے وقت بھی ان کی چون فلمیں زیر تکمیل تھیں۔ سلطان راہی کو نو جنوری انیس سو چھیانوے کو گوجرانوالہ کے قریب فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔