Thursday, January 20, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

سزا یافتہ شخص بھی پارٹی سربراہ بن سکتا ہے،چیف جسٹس

سزا یافتہ شخص بھی پارٹی سربراہ بن سکتا ہے،چیف جسٹس
February 9, 2018

اسلام آباد (92 نیوز) چیف جسٹس نے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کے خلاف دائر درخواستوں پر کہا کہ سزا یافتہ شخص بھی پارٹی سربراہ بن سکتا ہے ۔
چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017 کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی ۔
جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی کے وکیل شیخ احسن الدین نے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ نااہلی کیساتھ نوازشریف پارٹی عہدے سے فارغ ہو گئے تھے ۔ صرف نواز شریف کو پارٹی صدر بنانے کے لیے قانون بنایا گیا جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نئے قانون کے تحت سزا یافتہ شخص بھی پارٹی سربراہ بن سکتا ہے ۔ صرف نواز شریف کی حد تک نہیں عمومی طور پر قانون کو دیکھ رہے ہیں ۔
ادھر درخواست گزار ذوالفقار بھٹہ کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ نا اہل شخص کسی بھی طرح عوامی نمائندگی نہیں کرسکتا جبکہ وکیل اکرام چودھری نے کہا کہ مقدمہ قانون اور ایک شخص کی حکمرانی کے درمیان ہے ۔
اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس قانون سے آئین کا کون سا آرٹیکل متاثر ہوتا ہے ۔
سماعت میں موجود درخواست گزارعبدالودود قریشی کے وکیل طارق اسد نے کہا کہ اس مقدمہ کے سیاسی پہلو بھی ہیں ۔ آرٹیکل 62 میں درج خصوصیات صرف انبیا کرام کی ہو سکتی ہیں ۔ کسی شخص کا ان خصوصیات پر پورا اترنا ممکن نہیں جس پر جسٹس اعجاالاحسن نے کہا نشاندہی کریں کہ سیکشن 203 آئین سے منافی کس طرح سے ہے ۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پارٹی صدارت کے معاملے کو اسلامی احکامات کی روشنی میں دیکھنے کا اختیار وفاقی شرعی عدالت کا ہے ۔
اس کے بعد کیس کی سماعت 13 فروری تک ملتوی کر دی گئی ۔