Monday, November 29, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

ساڑھے 6 ارب ڈالر قرضہ لینے کے بعد آئی ایم ایف سے علیحدگی کا فیصلہ

ساڑھے 6 ارب ڈالر قرضہ لینے کے بعد آئی ایم ایف سے علیحدگی کا فیصلہ
March 30, 2016
اسلام آباد (92نیوز) حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف کا کشکول توڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ آئی ایم ایف سے اگلا قرضہ لیا جائے گا اور نہ ہی اگلے بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف سے رشتہ توڑنے کا اعلان کردیا ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف سے اب کوئی اور نیا قرضہ نہیں لے گا۔ موجودہ پروگرام ستمبر میں ختم ہونے کے بعد آئی ایم ایف کو بائے بائے کردیا جائے گا۔ مسلم لیگ نواز کی حکومت نے ستمبر 2013 میں آئی ایم ایف کے ساتھ 6 ارب 60 کروڑ ڈالر قرض کا معاہدہ کیا تھا۔ تین سالہ پروگرام کے تحت پاکستان اب تک 5 ارب 20 کروڑ ڈالر کا قرضہ لے چکا ہے اور قرض کی دو قسطیں ابھی باقی ہیں۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پاکستان نے آئی ایم ایف کو 5 ارب ڈالر کا قرضہ واپس بھی کیا ہے۔ وزیرخزانہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملکی معیشت میں استحکام نظر آرہا ہے۔ آئی ایم ایف سے کوئی اور قرضہ نہیں لیا جائے گا۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگلے مالی سال کے بجٹ میں اراکین پارلیمنٹ کو ترقیاتی بجٹ فراہم نہیں کیے جائیں گے۔ وفاقی حکومت ملک بھر میں ترقیاتی منصوبے اپنی نگرانی میں مکمل کرائے گی۔ وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے بجٹ میں بھی حکومت نے کسی رکن قومی اسمبلی کو ترقیاتی بجٹ فراہم نہیں کیے۔ ترقیاتی بجٹ روکنے پر حکومت اور اپوزیشن کے اراکین قومی اسمبلی احتجاج کررہے ہیں۔