Sunday, December 4, 2022

سانحہ ماڈل ٹاؤن ، نئی جے آئی ٹی کو کام سے روکنے کے حکم امتناعی میں 30 اپریل تک توسیع

سانحہ ماڈل ٹاؤن ، نئی جے آئی ٹی کو کام سے روکنے کے حکم امتناعی میں 30 اپریل تک توسیع

 لاہور (92 نیوز) سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات میں لاہورہائیکورٹ نے نئی جے آئی ٹی کو کام سے روکنے کے حکم امتناعی میں 30 اپریل تک توسیع کر دی۔

ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی جانب سے جواب داخل کرنے کیلئے مہلت کی استدعا کی گئی۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ ایک جے آئی ٹی کے بعد اسی معاملے پر دوسری جے آئی ٹی نہیں بن سکتی۔

 قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کے حوالے سے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا تھا جس میں جے آئی ٹی کو کام سے روک دیا تھا۔

 عدالت نے ریمارکس دیئے تھے کہ جے آئی ٹی کو کام سے نہ روکا گیا تو وہ کیس کے فیصلے تک تحقیقات مکمل کر لے گی۔ جے آئی ٹی نے تحقیقات مکمل کرلیں تو درخواستیں غیر موثر ہو جائیں گی۔

 عدالت  نے قراردیا تھا کہ انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت دوسری بار جے آئی ٹی نہیں بنائی جا سکتی۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری نے تیسری جے آئی ٹی کا نوٹی فکیشن جاری کیا جس کا انہیں اختیار نہیں۔

 تین رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس قاسم خان نے جے آئی ٹی کو کام کرنے سے روکنے کے فیصلے پر اختلافی نوٹ دیا تھا۔

 عدالت نے توہین آمیز رویہ پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس کو شوکاز نوٹس بھی جاری کر دیا تھا جس میں ایڈووکیٹ جنرل.پنجاب کو ہدایت کی گئی تھی کہ اپنے رویے پر تحریری جواب داخل کریں۔ ایڈوکیٹ جنرل جواب جمع کروائیں کیوں نہ ان کے خلاف  توہین عدالت کی کارروائی  کی جائے۔ لاہور ہائیکورٹ کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں ایسا نہیں ہوا کہ لاء افسران  نے ایسا رویہ اختیار کیا ہو۔

 فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور لاء افسران شور مچا کرعدالت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے رہے۔ ایڈوکیٹ جنرل اور لاء افسران اپنی مرضی کے بنچ کے پاس کیس لگوانا چاہتے تھے۔