Sunday, November 28, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

سانحہ قصور: مرکزی ملزم کی گرفتاری کے بعد پولیس کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی

سانحہ قصور: مرکزی ملزم کی گرفتاری کے بعد پولیس کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی
January 26, 2018

لاہور (92 نیوز) سانحہ قصور کے مرکزی ملزم عمران کی گرفتاری کے بعد پولیس کی کارکردگی سے بھی پردے اٹھنے لگے۔ پولیس کے پاس مخبری کا نظام ہی نہیں۔ ملزم عمران کے خلاف کئی بار بچیوں کو تنگ کرنے کی شکایات سامنے آچکی تھیں اور اس کی کئی بار پٹائی بھی ہوچکی تھی، ایک خاندان نے اس کے خلاف شکایت بھی درج کرائی لیکن اس کے باوجود پولیس تین سال تک اسے گرفتار نہ کرسکی۔

قصور میں سات سالہ بچی زینب انصاری سمیت زیادتی اورزیادتی کے بعد قتل کا نشانہ بننے والی آٹھ کمسن بچیوں کاملزم تقریباً تین برس تک نا معلوم رہنے کے بعد منگل کو پکڑاگیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے وزیر اعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی پریس کانفرنس کے دوران تفتیشی ٹیم میں شامل کسی بھی پولیس افسر کو سوالات کا جواب دینے کا موقع نہیں دیا گیا۔ متعدد سوالات ایسے ہیں جو آج بھی جواب طلب ہیں۔

بی بی سی کے مطابق دوہزار پندرہ میں عمران کے محلے کے رہائشی محمد اکرم نے ایک چھوٹی بچی سےچھیڑ چھاڑپراس کی پٹائی کی تھی اورپھر اہل محلہ نے بھی اس کی درگت بنائی۔ اسے قریبی محلوں میں بھی اس بات پر مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک شخص نے اس کیخلاف پولیس کو باقاعدہ شکایت بھی درج کرائی مگر پولیس نے نظراندازکردیا۔

پولیس نے مبینہ قاتل تک پہنچنے میں دو برس کیوں لگائے جبکہ اس عرصے میں پانچ معصوم بچیوں کی جانیں ضائع ہوئیں؟ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جو مشترکہ کوشش گزشتہ چودہ دنوں میں کی، وہ دو برس قبل اس نوعیت کے پہلے ہی واقعے کے بعد کیوں نہیں کی گئی؟ یہ وہ سوال ہیں جن کا جواب کسی کو نہیں معلوم۔ اگر پولیس کا مخبری کا نظام بہترہوتا تو شاید زینب سمیت کئی معصوم جانیں ضائع نہ ہوتیں۔!