Wednesday, January 19, 2022
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK) آج کا اخبار English News
English News آج کا اخبار
براہراست ٹی وی براہراست نشریات(UK)

سانحہ ساہیوال میں ہم نے جو ایکشن لیا تاریخ میں مثال نہیں ملتی ، وزیر اعلیٰ پنجاب

سانحہ ساہیوال میں ہم نے جو ایکشن لیا تاریخ میں مثال نہیں ملتی ، وزیر اعلیٰ پنجاب
January 29, 2019
 ٹوبہ ٹیک سنگھ (92 نیوز) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے کہا کہ سانحہ ساہیوال پر 72گھنٹوں میں جو کام ہم نے کیا اُس کی مثال نہیں ملتی۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں میڈیا گفتگو میں عثمان بزدار نے کہا متاثرہ فیملی کی کوئی شکایت ہمارے تک نہیں آئی۔ انصاف دلانے کیلئے جس چیز کی ضرورت پڑی کرینگے۔ سردار عثمان بزدار نے کہا کہ پنجاب بھر کے ترقیاتی فنڈ جاری کئے جا رہے ہیں۔ شہر شہر جا کر ڈویژن اور ضلع کی سطح پر علاقہ کی ترقی کیلئے کام کر رہے ہیں۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار تنقید کا نشانہ بنانے والوں کے خلاف بھی کھل کر سامنے آ گئے اور کہا کہ عمران خان اُن کی تعریف کریں تو دوسروں کو تکلیف کیوں ہوتی ہے ؟ اس سے پہلے وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے ملتان میں پولیس ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں کانسٹیبل ریکروٹ کے 57 ویں بیج کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں شرکت کی۔ اس موقع پر اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوئی جب آئی جی نے مصافحے کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا تاہم وزیراعلیٰ بے دھیانی میں مصافحہ کئے بغیر آگے بڑھ گئے۔ ادھر سانحہ ساہیوال پر سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے وزیر اعظم کو جلد از جلد جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کیلئے خط لکھ دیا۔ سانحہ ساہیوال پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس ہوا ، اجلاس میں مقتول ذیشان اور خلیل کے ورثا نے بھی شرکت کی ۔ ذیشان کی والدہ نے اجلاس میں کہا کہ دہشتگرد کے دھبے کیساتھ کسے زندہ رہیں ، لوگ کہتے ہیں دہشتگرد کی ماں ہے، دہشتگردی کا جو لیبل لگایا ہے وہ اتاردیں اور کچھ نہیں چاہیے۔ ذیشان کی والدہ کا کہنا تھا کہ حکومتی وزیر روزانہ ذیشان کو دہشتگرد کہتے ہیں  کیا ان کو شرم نہیں آتی ،  اگر بیٹا دہشتگرد تھا تو زندہ کیوں نہیں پکڑا ،پچیس سال سے اس گھر میں رہائش پذیر ہیں، تحقیقات کی جائیں۔ ذیشان کے بھائی نے کہا کہ  یہ کون سا دہشتگرد تھا جس کو مارنے کے بعد اس کے خلاف ثبوت تلاش کیے جارہے ہیں۔ جبکہ مقتول خلیل کے بھائی نے کہا کہ جے آئی ٹی پر اعتبار نہیں، جوڈیشل کمیشن بنا کر تحقیقات کرائی جائیں اور سی ٹی ڈی کی ایف آئی آر خارج کی جائے۔