Monday, March 4, 2024

سال 2019 میں بھی پولیو کیخلاف جنگ نہ جیتی جا سکی

سال 2019 میں بھی پولیو کیخلاف جنگ نہ جیتی جا سکی
December 26, 2019
اسلام آباد ( 92 نیوز) پولیو کے خلاف جنگ میں ناکامیوں کو سمیٹے سال 2019 اپنے اختتام کو پہنچا اور 111بچوں کو معذور کرگیا ، صوبہ خیبرپختونخوا 79 کیسز کے ساتھ پہلے نمبر پر رہا جبکہ سندھ دوسرے نمبر پر، انسداد پولیو مہمات بھی چلیں لیکن سود مند ثابت نہ ہوسکیں، وزیراعظم عمران خان کے فوکل پرسن برائے انسداد پولیو مہم بابر بن عطا کو بھی مستعفی ہونا پڑا۔ پولیو کے خلاف جنگ تاحال کامیاب نہ ہو سکی ، سال 2019 پاکستان کیلئے بھیانک قرار  دیا گیا ،  حکومتی سر توڑ کوششوں اور انسداد پولیو مہمات کے باوجود بچوں کو اپاہج کرنے والی بیماری سے چھٹکارا حاصل نہ کیا جاسکا بلکہ ایک سال میں 111بچے معذوری کا شکار ہوگئے ۔ خیبرپختونخوا 79 کیسز کے ساتھ ناکامی کی فہرست میں سہرفرست رہا ، سندھ 17 کیسز کے ساتھ دوسرے ، بلوچستان 9 کیسز کے ساتھ تیسرے اور پنجاب 6 کیسز کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہا۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں کوئی پولیو کیس رپورٹ نہ ہوا ، سال 2019 میں جون کا مہینہ سب سے بھاری رہا اور 16 بچے زندگی بھر کیلئے معذور ہوگئے ۔ سال 2019 کا سورج طلوع ہوا تو پہلے ہی مہینے جنوری میں 4 بچوں کو معذور کرگیا ، فروری میں دو، اپریل اور مئی میں گیارہ گیارہ ، جون میں 16 ، جولائی میں 12 ،اگست میں 14 ،  ستمبر میں 5 ، اکتوبر میں 15،  نومبر میں 11 اور دسمبر میں 10 بچے مہلک بیماری کا شکار ہوگئے ۔ انسدادِ پولیو مہمات کے دوران  ویکسین سے متعلق پروپیگنڈے نے حکومت کی مشکلات بڑھائیں ، وزیراعظم عمران خان کے فوکل پرسن برائے انسداد پولیو مہم بابر بن عطا کو بھی مستعفی ہونا پڑا۔ ملک بھر میں سال 2015 ميں پولیو سے 54 ، 2016 ميں 20، 2017 ميں 8 اور 2018 ميں 12 بچے معذور ہوئے ، حکومت نے مزید نقصان سے بچنے اور پولیو وئراس کے اس حملے کو پلٹنے کیلئے فروری اور اپریل میں بڑے پیمانے پر 3 مہمات کی منصوبہ بندی کررکھی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں  پولیو کے خلاف مشکل اور چیلنجز سے بھرپور طویل جنگ میں کامیابی کیلئے وقت درکار ہوگا۔