Thursday, September 29, 2022

سال 2016ءکے آغاز پر ڈیزل اور مٹی کا تیل سستا ... پٹرول کی قیمت برقرار

سال 2016ءکے آغاز پر ڈیزل اور مٹی کا تیل سستا ... پٹرول کی قیمت برقرار
اسلام آباد (92نیوز) 92 نیوز کی خبر کام کر گئی‘ حکومت نے پیٹرول اور ہائی اوکٹین کی قیمت برقراررکھی‘ دیگر مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق 92 نیوز نے ایک دن قبل ناظرین کو بتایا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 34 ڈالر فی بیرل ہے جو 21 سینٹ فی لیٹر بنتی ہے یعنی 21 روپے فی لیٹر۔ پی ایس او کی دستاویزات کے مطابق اگر بجٹری ٹیکسز شامل کر بھی لیے جائیں تو پیٹرول کی قیمت پر جنرل سیل ٹیکس 6 روپے 61 پیسے اور ڈیزل پر 6 روپے 23 پیسے فی لیٹر بنتا ہے۔ پیٹرولیم لیوی کے9 روپے 89 پیسے‘ ان لینڈ فریٹ مارجن1 روپے 24 پیسے اور 2 روپے 60 پیسے فی لیٹر ڈیلر مارجن کے شامل کیے جائیں تو پیٹرول کی قیمت 44 روپے فی لیٹر بنتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 14 روپے فی لیٹر کمی کرتی۔ اوگرانے پیٹرول کی قیمت میں 2روپے 17 پیسے فی یونٹ اضافے کی سفارش کی تھی۔ 92نیوز کی جانب سے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کی نشان دہی کی گئی تو وزیر اعظم نے پیٹرول کی قیمت کو برقرار رکھنے کا اعلان کیا۔ 92 نیوز نے یہ بھی بتایا تھا کہ صارفین خوش فہمی میں نہ رہیں‘ حکومت پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کا پورا ریلیف صارفین کو نہیں دے گی۔ یہی ہوا کہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے93 پیسے فی لیٹر کمی کی سفارش کی گئی تھی لیکن کمی کی گئی صرف 3 روپے۔ ہائی اوکٹین کی قیمت میں 4 روپے 35 پیسے فی لیٹرکمی کی تجویز دی گئی ہے لیکن حکومت نے اس میں بھی خوب منافع کمایا اور ایچ او بی سی کی قیمت برقرار رکھی۔ صرف مٹی کے تیل کی قیمت میں8 روپے 7 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا ہے۔ وزارت پیٹرولیم ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایل این جی اور تاپی گیس پائپ لائنز منصوبوں کی تعمیر کے لیے ریونیو شارٹ فال کا سامنا ہے جس کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر پورا ریلیف منتقل نہیں کیا گیا۔