Friday, December 3, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

سات بچیوں کے قتل پر حکومت کیوں نہ جاگی ، عوام کا حکمرانوں سے سوال

سات بچیوں کے قتل پر حکومت کیوں نہ جاگی ، عوام کا حکمرانوں سے سوال
January 24, 2018

قصور ( 92 نیوز ) زینب کا قاتل پکڑے جانے پر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف مبارکبادیں لیتے بھی رہے اور دیتے بھی رہے ۔ پنجاب پولیس اور فرانزک لیب کی تعریفوں کے بھی پل باندھ دیئے  ۔ مگر عوام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ زینب سے پہلے 7 بچیوں کی ہلاکت پر حکومت کیوں نہیں جاگی اور مشکوک افراد کے ڈی این اے ٹیسٹ کیوں نہیں کیے گئے ۔

عوامی حلقوں کاکہنا ہے کہ سفاک قاتل ایک سال سے بھی زیادہ عرصے تک معصوم بچیوں کو نشانہ بناتا رہا  مگر کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔ مقتول بچیوں کے والدین تھانوں میں دہائیاں دیتے رہے مگر آئی جی اور وزیر اعلیٰ تو کیا  ایس ایچ او کو بھی نہ جگا سکے۔

عوام کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پولیس اور فرانزک لیب کا کریڈٹ لیتے رہے مگر زینب کے قتل سے پہلے درندگی کا نشانہ بننے والی 7 بچیوں کے قاتل کو پکڑنے کے لیے کتنے ڈی این اے ٹیسٹ لیے گئے ۔ قاتل عمران کے ہاتھوں پہلا نشانہ بننے والی عائشہ کا باپ تھانے میں اور افسران کے سامنے پاؤں رگڑتا رہا مگر  پولیس کو کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج نہ ملی ۔ بلکہ اس کی ہلاکت کے ایک سال بعد اس کے باپ کو پوسٹمارٹم رپورٹ دی گئی۔

قاتل عمران کا گھر نہ صرف زینب بلکہ دوسری بچیوں کے گھروں کے بھی پاس ہے۔آخر پہلے مشکوک افراد کا ڈی این اے ٹیسٹ کیوں نہیں کیا گیا۔خود زینب کے والد کا کہنا ہے کہ تمام سی سی ٹی وی فوٹیج انہوں نے اور محلے داروں نے نکال کر پولیس کی دیں۔

عائشہ،ایمان فاطمہ،لائبہ،عاصمہ،اور تہمینہ ، ہر معصوم بچی اس درندہ صفت ملزم کا نشانہ بنی مگروزیر اعلیٰ کتنی بچیوں کے گھر پر گئے ۔ وزیر اعلیٰ کو زینب کے قاتل کے پکڑے جانے کی خوشی منانی چاہیے یا 7 بچیوں کی ہلاکت کے باوجود حکومت کے ناجاگنے پر ماتم کرنا چاہیے۔

عوام کا کہنا ہے کہ آج وزیر اعلیٰ پنجاب پورے ملک کو پنجاب فرانزک لیب کی خدمات حاصل کرنے کا مشورہ دیتے رہے ۔آخر انہوں نے یہ مشورہ جب پہلی بچی درندگی کے بعد قتل  ہوئی تو  پنجاب پولیس کو کیوں نہیں دیا۔