Thursday, December 9, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی 9مقدمات میں ایک ہفتے کیلئے حفاظتی ضمانت منظور

سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی 9مقدمات میں ایک ہفتے کیلئے حفاظتی ضمانت منظور
September 1, 2015
اسلام آباد (92نیوز) سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کی 9مقدمات میں ایک ہفتے کےلئے حفاظتی ضمانت منظور کرلی گئی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے تمام مقدمات میں ایک، ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس نور الحق قریشی نے یوسف رضا گیلانی کی 9 مختلف مقدمات میں 7 روز کیلئے حفاظتی ضمانت کی درخواستوں کی سماعت کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر راجہ علیم عباسی ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی گئی درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایف آئی اے نے کرپشن کے مقدمات میں ان کے وارنٹ گرفتاری حاصل کیے ہیں۔ عدالت سے استدعا ہے کہ ان کے وارنٹ گرفتاری معطل کرتے ہوئے حفاظتی ضمانت منظور کی جائے تاکہ وہ ٹرائل کورٹ میں پیش ہوسکیں۔ ہائیکورٹ نے موقف سننے کے بعد 7دن کے لیے ایک ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض یوسف رضا گیلانی کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ عدالت سے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، ہمارے قائدین عدالتوں میں پیش ہوتے رہے اس لیے میں بھی عدالت میں پیش ہوا، سیف الرحمان نے بھی ان کے خلاف مقدمات بنائے تھے، انہوں نے 10 سال جیل کاٹی مگران کے دور میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا، ایف آئی اے وفاقی حکومت کے ماتحت ادارہ ہے، حکومت کی اجازت کے بغیر ایف آئی اے کسی قسم کی کارروائی نہیں کرسکتی، انہیں افسوس ہے کہ آج جب وہ عدالت میں تھے تو ان کے خلاف ایک اور کیس بن گیا لیکن انہیں عدالتوں سے انصاف کی توقع ہے۔ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف اور فوجی آپریشن کے حق میں ہے، ہم پر یہ الزام نہیں لگایا جاسکتا کہ ہم دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ یوسف رضا گیلانی اور مخدوم امین فہیم سمیت دیگر افراد کے خلاف ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان میں متعلق بدعنوانی کے کئی مقدمات درج ہیں۔ گزشتہ ہفتے ایف آئی اے کراچی کی انسداد بدعنوانی عدالت میں 12 مقدمات کے حتمی چالان پیش کیے تھے جس پر عدالت نے دونوں شخصیات کو گرفتار کر کے 10 ستمبر کو پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔