Wednesday, December 7, 2022

سابق صدر کا افطار ڈنر بھی ان کی سیاسی تنہائی دور کرنے میں ناکام رہا

سابق صدر کا افطار ڈنر بھی ان کی سیاسی تنہائی دور کرنے میں ناکام رہا
اسلام آباد(92نیوز)سابق صدرآصف علی زرداری سیاسی تنہائی دورکرنے میں کامیاب نہ ہوسکے افطارڈنرمیں دیرینہ اتحادی اسفندیارولی نے شرکت نہ کی، شجاعت حسین بھی بڑی منتوں سماجتوں سے پہنچے، جماعتِ اسلامی نہ آئی  حکمران  لیگ نے نہ بلائے جانے پرشکوہ کرڈالا تحریکِ انصاف نے شرکت سے پہلے ہی انکارکردیا۔ تفصیلات کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری کی کوششیں رنگ نہ لاسکیں مفاہمتی قوت کا مظاہرہ کرنے کے لئے انہوں نے تمام سیاسی قیادت کوافطارڈنرپربلایا لیکن شوکامیاب نہ رہا۔ زرداری ہاؤس میں خصوصی دعوت کے لئے اسپیشل سندھی بریانی، وائٹ مٹن چانپ، چکن سموسے، چکن پکوڑے، فش پکوڑے، مٹن قورمہ، کھجور، شربت، لیموں پانی، چناچاٹ، فروٹ چاٹ اور دہی بھلے سےپانچ میزیں سجا دی گئیں لیکن پانچ میں سےدومیزیں خالی ہی رہیں۔ اے این پی کے سربارہ اورآصف زرداری کے دیرینہ دوست اسفند یارولی خود نہ آئے اوراپنا وفد بھیج دیا چودھری برادران کی جوڑی بھی ٹوٹ گئی اور چودھری شجاعت حسین کافی منت سماجت کے بعد اکیلے ہی آئے سراج الحق نے شرکت سے معذرت کرلی مولانا فضل الرحمان نہ نہ کرتے پہنچ گئے۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے توشرکت کی دعوت ملنے سے پہلے ہی شرکت سے انکارکردیا، ن لیگ نے دعوت نہ ملنے کا شکوہ کیا اوروزیرِ اطلاعات پرویزرشید نے کہا کہ دعوت نہیں ملی توشرکت کیسی؟۔۔ زرداری صاحب جب چاہیں وزیراعظم نوازشریف سے مل سکتے ہیں اُدھر ایم کیوایم نےافطار ڈنرمیں شرکت کی۔ ذرائع کے مطابق سیاسی قائدین کے اس اکٹھ میں طے پایا ہےکہ کراچی کے معاملات کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ رینجرزکواپنے اختیارات سے تجاوزنہیں کرنا چاہیے ،سیاسی جماعتیں آئین کی پاسداری کے لئے اکٹھی ہیں۔