Saturday, December 3, 2022

سابق سیکرٹری خزانہ کی گرفتاری کے بعد کرپشن کی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع

سابق سیکرٹری خزانہ کی گرفتاری کے بعد کرپشن کی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع
کوئٹہ (نائنٹی ٹو نیوز) بلوچستان کے میگا کرپشن کیس کے چرچے صوبائی اسمبلی میں بھی پہنچ گئے۔ اپوزیشن ارکان نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور طنز کے ایسے نشتر برسائے کہ سپیکر کو مجبورا مائیک بند کرانے پڑے۔ اپوزیشن نے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔ بلوچستان اسمبلی کا ہنگامہ خیز اجلاس سپیکر راحیلہ درانی کی صدارت میں شروع ہوا۔ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر مالک بلوچ نے میگا کرپشن کیس میں اپنی نااہلی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ مشیر خزانہ مستعفی ہو چکے ہیں جبکہ ہم بھی اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کرتے ہیں لیکن یہ دو ہزار دو سے ہونا چاہیے۔ اپوزشین لیڈر مولانا واسع کا کہنا تھا کہ قوم پرستوں نے کرپشن فری بلوچستان کے جو دعوے کیے تھے وہ کہاں گئے۔ صرف اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کرنے سے کچھ نہیں ہو گا بلکہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان سمیت پوری کابینہ مستعفی ہو۔ سابق مشیر خزانہ خالد لانگ کی سنیے کہتے ہیں کہ سب کچھ میری ناک کے نیچے ہوتا رہا اور مجھے پتہ ہی نہیں چلا ساری رات سو نہیں سکا۔ پارٹی قائدین کے کہنے پر استعفیٰ دیدیا ہے۔ اگر وہ کہیں گے تو اسمبلی رکینت سے بھی مستعفی ہونے کو تیار ہوں۔ اپوزشین ارکان زمرک اچکزئی اور سردار عبدالرحمان کھیتران نے بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تاہم بحث کی اجازت نہ ملنے پر اپوزشین نے کابینہ کے مستعفی ہونے تک اسمبلی اجلاس کا بائکاٹ کر دیا۔