Friday, December 2, 2022

سائنسدانوں نے زمین کی آخری تہہ میں موجود مادے کا سراغ لگا لیا

سائنسدانوں نے زمین کی آخری تہہ میں موجود مادے کا سراغ لگا لیا

ٹوکیو (ویب ڈیسک) ٹوکیو یونیورسٹی کے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ زمین کی اندرونی تہہ میں موجود مادہ سیلیکون ہو سکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جاپان کی ٹوکیو یونیورسٹی کے ارضیاتی سائنسدان طویل عرصے سے یہ راز جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ زمین کی اندرونی تہہ میں موجود مادہ کیا ہے اور آیا زمین کی اندرونی تہہ میں فولاد، نکل یا چاندی کے علاوہ دیگر کون سے اجزا ہو سکتے ہیں لیکن اب زمین کی اندرونی تہہ میں انتہائی گرم درجہ حرارت اور دباؤ کو مصنوعی طریقے سے بنا کر سائنسدان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ مادہ سیلیکون ہے۔

اس دریافت سے زمین اور اس کی تخلیق کے عمل کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ٹوکیو یونیورسٹی کے پروفیسر اور تحقیقاتی پراجیکٹ کے سربراہ ایجی اوہ تانی کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سیلیکون زمین کی اندرونی تہہ کا تقریباً پانچ فیصد ہے جو فولاد اور نکل کے ساتھ مرکب بن سکتا ہے۔

زمین کا سب سے اندرونی حصہ ٹھوس گیند کی مانند ہے اور اس کا نصف قطر تقریباً بارہ سو کلو میٹر ہے۔ ایجی اوہ تانی اور ان کی ٹیم نے لوہے اور نکل کا مرکب تیار کر کے اس میں سیلیکون شامل کیا اور زمین کی تہہ جیسے دباؤ اور درجہ حرارت سے گزارا تو یہ بات سامنے آئی کہ مرکب کا ردعمل ویسا ہی تھا جیسا حقیقت میں زمین کی اندرونی تہہ میں ہوتا ہے۔