Thursday, September 29, 2022

زینب الرٹ بل 2020 سینیٹ میں منظور

زینب الرٹ بل 2020 سینیٹ میں منظور
اسلام آباد  (92 نیوز) زینب الرٹ بل 2020 سینٹ میں بھی منظور کرلیا گیا ، بل کے تحت بچوں کے خلاف جرائم کی سزائیں ، عمر قید  سے سزائے موت  یا پھر زیادہ سے زیادہ 14 اور کم سے کم 7 سال قید  ہو گی ۔ بل  قومی کمیشن برائے حقوقِ بچگان کا نام تبدیل کر کے ’زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایجنسی‘ ہوگا، کسی بھی بچے کے اغوایاجنسی زیادتی کے واقعہ کا مقدمہ درج ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر اس مقدمے کی سماعت مکمل کرنا ہو گی۔ بل کے مطابق پولیس بچے کی گمشدگی یا اغوا کے واقعہ کی رپورٹ درج ہونے کے دو گھنٹوں کے اندر اس پر کارروائی کرنے کا پابند ہوگی۔ سینیٹر فیصل جاوید نے  زینب الرٹ بل کی منظوری پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ  قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ، بچوں کی سلامتی اور تحفظ کا معاملہ اہم ترین نوعیت کا ہے،  بچوں کی زندگی اور حرمت پر حملہ آور ہونے والے درندے سخت ترین سزاؤں کے حقدار ہیں۔ سینٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ  مذکورہ قانون سازی کو مزید تاخیر کا شکار کرنا ممکن نہیں تھا، پہلے ہی  غیر ضروری  تاخیر برتی گئی،  قانون میں بہتری کے لئے ترمیم پیش کرنا ممکن ہے،  یہ قانون پورے ملک میں یکساں طور پر لاگو ہوگا۔ [caption id="attachment_270250" align="alignnone" width="373"]زینب الرٹ بل 2020 سینیٹ میں منظور ‏ زینب الرٹ بل 2020 سینیٹ میں منظور ‏[/caption] [caption id="attachment_270251" align="alignnone" width="378"]زینب الرٹ بل 2020 سینیٹ میں منظور ‏ زینب الرٹ بل 2020 سینیٹ میں منظور ‏[/caption] [caption id="attachment_270252" align="alignnone" width="469"]زینب الرٹ بل 2020 سینیٹ میں منظور ‏ زینب الرٹ بل 2020 سینیٹ میں منظور ‏[/caption]