Tuesday, September 27, 2022

زکوٰۃ اور بیت المال کا فنڈ انتظامی کاموں کیلئے استعمال ہو سکتا ہے یانہیں ، شرعی رائے طلب

زکوٰۃ اور بیت المال کا فنڈ انتظامی کاموں کیلئے استعمال ہو سکتا ہے یانہیں ، شرعی رائے طلب

اسلام آباد ( 92 نیوز) زکوٰۃ اور بیت المال کا فنڈ انتظامی کاموں کیلئے استعمال ہوسکتا ہے یا نہیں ، ان پیسوں سے تنخواہیں دی جاسکتی ہیں یا نہیں، سپریم کورٹ نے اسلامی نظریاتی کونسل اور مفتی تقی عثمانی سے شرعی رائے طلب کرلی۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دئیے کہ کہ زکوٰۃ کا پیسہ بیرون ملک دوروں کیلئے نہیں ہوتا۔

سپریم کورٹ میں کورونا وائرس سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے اہم سوالات کا  جواب مانگ لیا ،  زکوٰۃ فنڈز سے رقوم کی ادائیگی میں شفافیت سے متعلق صوبوں اوراسلام آباد سے رپورٹ طلب کرلی ۔

بیت المال کی شفافیت پربھی رپورٹ طلب کر لی گئی عدالت نے قرار دیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل اورمفتی تقی عثمانی سے رائے لی جائے کہ کیا زکوٰۃ اور صدقے کی رقم سے تنخواہیں اور دیگر اخراجات پورے کیے جاسکتے ہیں یانہیں؟ ۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ زکوٰۃ  سے متعلق رپورٹ میں کچھ نہیں بتایا گیا ، محکمہ زکوٰۃ  نے معلومات دینے کے بجائے صرف قانون بتایا ، کیا محکمہ کا بنایاگیا قانون شریعت سے متصادم نہیں؟؟۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ صوبائی حکومتیں زکوٰۃ  مستحقین تک نہیں پہنچاتیں ، زکوۃ فنڈ کا بڑا حصہ تو انتظامی اخراجات پر لگ جاتا ہے ۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ سندھ میں زکوٰۃ  فنڈ سے 94 ہزار سے زائد افراد کو 569 ملین روپے دیے گئے ، فی کس 6ہزار روپے زکوٰۃ  دی گئی۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ زکوۃ کی رقم سے لوگوں کو جہاز پر سفر کرایا جاسکتا ہے نہ تنخواہ دی جاسکتی ہے ، مزارات کے پیسے سے افسران کیسے تنخواہ لے رہے ہیں ، سارا پیسہ زکوٰۃ فنڈ کا ایسے ہی خرچ کرنا ہے تو کیا فائدہ؟ ، مزارات کی حالت دیکھ لیں سب گرنے والے ہیں ، سیہون شریف دربار کی بھی مرمت ہوتی توچھت نہ گرتی ، مزارات کا پیسہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کےلیے ہوتا ہے ، سمجھ نہیں آتا اوقاف اور بیت المال کا  پیسہ کہاں خرچ ہوتا ہے؟۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ رپورٹ کے مطابق وفاق نے 9 ارب سے زائد زکوٰۃ جمع کی گئی ، مستحقین تک رقم کیسے جاتی ہے اس کا کچھ نہیں بتایا گیا ، وفاقی حکومت کو زکوٰۃ فنڈ کا آڈٹ کرانا چاہیے۔