Thursday, December 1, 2022

زمین سے ملتا جلتا سیارہ دریافت جہاں سال صرف گیارہ دنوں کا ہوتا ہے : سائنسدان

زمین سے ملتا جلتا سیارہ دریافت جہاں سال صرف گیارہ دنوں کا ہوتا ہے : سائنسدان
لندن (ویب ڈیسک) سائنسدانوں نے زمین سے ملتا جلتا سیارہ دریافت کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ نظامِ شمسی سے باہر زمین سے ملتے جلتے کئی سیارے دریافت ہوئے ہیں مگر یہ سیارہ زمین سے انتہائی قریب ہے۔ مذکورہ سیارہ پڑوسی نظام شمسی پروکسیما سینٹوری کے گرد چکر کاٹ رہا ہے جو ہماری زمین سے چار نوری سال (چالیس کھرب کلومیٹر)کی مسافت پر واقع ہے۔ سائنسدانوں نے اس سیارے کا نام پروکسیما بی رکھا ہے۔ پروکسیما بی اپنے سورج کے گرد ایک ایسے مدار میں گردش کر رہا ہے جہاں اس کی سطح پر پانی زمین کی طرح مائع حالت میں رہ سکتا ہے۔ زمین کے مقابلے میں پروکسیما بی اپنے سورج سے صرف پانچ فیصد دور ہے مگر اس کا سورج ہمارے سورج کے مقابلے میں ایک ہزار گنا کم روشن ہے۔ اس لہٰذا سے دیکھا جائے تو وہ پروکسیما بی کو زمین کے مقابلے میں سترفیصد توانائی منتقل کرتا ہے۔ ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ وہاں کسی قسم کا کرہ ہوائی موجود ہے یا نہیں۔ بہرحال یہ سیارہ زمین سے چالیس کھرب کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جہاں انسان کو پہنچنے کیلئے ہزاروں سال درکار ہیں۔ سائنسی جریدے ”نیچر“ میں شائع رپورٹ کے مطابق ابھی یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ نودریافت شدہ سیارہ کس حد تک قابل رہائش ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ پروکسیما بی زمین سے تقریباً سوا گنا بڑا ہے اور یہ اپنے سورج سے 75 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے پر گردش کر رہا ہے اور اپنا ایک چکر لگانے میں اسے صرف گیارہ اعشاریہ دو دن لگتے ہیں۔