Wednesday, September 28, 2022

زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں ڈالنے سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ

زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں ڈالنے سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ
اسلام آباد (92 نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ نے زلفی بخاری کا نام بلیک لسٹ میں ڈالنے اور پرائیویٹ جیٹ کا نور خان ایئر بیس استعمال کرنے سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا ۔ زلفی بخاری کیس کی سماعت کےدوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ایک کال پر چیزیں ادھر سے ادھر ہو جاتی ہیں، بلیک لسٹ کے حوالے سے قانون کیا ہے، درخواست ای سی ایل کی آئی، نام بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا، اگر نام بلیک لسٹ میں ڈال ہی دیا گیا تھا تو ایک کال پر کس طرح نکالا گیا۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ غیر ملکی یا دوہری شہریت رکھنے والے کو بلیک لسٹ کیسے کیا جا سکتا ہے،جس پاکستانی پاسپورٹ کو کینسل کیا اس کا نمبر کیا ہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ زلفی بخاری کا پاسپورٹ نہیں شناختی کارڈ کینسل کیا۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ شناختی کارڈ پر کیسے بلیک لسٹ کیا جا سکتا ہے، اس کی قانونی حیثیت کیا ہے جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ وزارت داخلہ کا اپنا ایس او پی ہے، وزارت داخلہ کی تجویز پر وزارت قانون نے توثیق کی۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ سعودی عرب جانا ریاست مخالف کیسے ہوا، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ زلفی بخاری کو ریاست کے مفاد میں روکا گیا۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کون سے صوابدیدی اختیارات، یہ کوئی بادشاہت تو نہیں ہے، انعام الرحیم ایڈووکیٹ نے کہا کہ زلفی بخاری کی جانب سے بلیک لسٹ سے نکالنے کی کوئی درخواست نہیں ہے، نام بلیک لسٹ سے نکالا جائے۔ ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب نے بتایا کہ ہماری نام ای سی ایل میں ڈالنے کی استدعا ابھی بھی برقرار ہے،عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔