Monday, September 26, 2022

‘ ریٹائرڈ بیورو کریٹ اور ٹیکنوکریٹ الیکشن کمیشن کے ممبر بن سکیں گے ’

‘ ریٹائرڈ بیورو کریٹ اور ٹیکنوکریٹ الیکشن کمیشن کے ممبر بن سکیں گے ’

اسلام آباد (92نیوز) انتخابی اصلاحات کمیٹی نے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کی تقرری کے نئے طریقہ کار کےلئے آئینی ترمیم کا مسودہ تیار کر لیا۔ ترمیم کے بعد ریٹائرڈ سرکاری افسر اور ٹیکنوکریٹ بھی چیف الیکشن کمشنر یا ممبر الیکشن کمیشن بن سکے گا۔

تفصیلات کے مطابق انتخابی اصلاحات کمیٹی کا اجلاس اسحاق ڈار کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی نے چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے ممبران کی تعیناتی کے لیے نیا طریقہ کار وضع کر لیا۔ اس حوالے سے آئینی ترمیم بدھ کے روز قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق نئی آئینی ترمیم کے مسودے کے مطابق اب ریٹائرڈ سرکاری افسر اور ٹیکنو کریٹ بھی چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کا ممبر بن سکے گا۔ اس سے قبل صرف سپریم کورٹ کا ریٹائرڈ جج چیف الیکشن کمشنر جبکہ ہائیکورٹ کا ریٹائرڈ جج ممبر بن سکتا تھا۔

آئینی ترمیم کے ڈرافٹ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کے لئے عمر کی حد 68 سال جبکہ ممبر الیکشن کمیشن کے لیے کم از کم عمر 65 سال رکھی گئی ہے۔ نئے ڈرافٹ میں مزید تجویز کیا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن ممبران کی سیٹ خالی ہونے کے بعد 45 دن کے اندر اندر تعیناتی لازم ہو گی۔

اس سے قبل یہ لازم تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن ممبران کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہی تعیناتی کرنا لازمی تھا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو غیرفعال ہونے سے بچانے کے لیے الگ ترمیم لا رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ممبران کی مدت 12 جون کو ختم ہو رہی ہے۔