Thursday, October 28, 2021
English News آج کا اخبار براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی
English News آج کا اخبار
براہراست نشریات(UK) براہراست ٹی وی

انڈر ورلڈ مافیا اور لیاری گینگ وار کاسرغنہ عزیر بلوچ گرفتار

انڈر ورلڈ مافیا اور لیاری گینگ وار کاسرغنہ عزیر بلوچ گرفتار
January 30, 2016

کراچی (92نیوز) کراچی میں لیاری گینگ وار کے ماسٹرمائنڈ اور سرغنہ عزیر بلوچ کو گرفتار کر لیا گیا۔ ترجمان رینجرز کا کہنا ہے کہ عزیر بلوچ کو کراچی میں داخل ہوتے وقت گرفتار کیاگیا۔ عزیر بلوچ کو گزشتہ رات کراچی کے مضافاتی علاقے سے گرفتار کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق رینجرز کی جانب سے جاری کی گئی پریس ریلیز میں اس بات کی تصدیق کر دی گئی ہے کہ پاکستان رینجرز سندھ نے گزشتہ رات ایک ٹارگٹڈ کارروائی کے دوران کراچی کے مضافات سے لیاری گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کو کراچی میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عذیر بلوچ سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔ واضح رہے کہ عزیر بلوچ کو لیاری گینگ وار کا مرکزی کردار کہا جاتا ہے اور ان پر کراچی کے علاقے لیاری کے مختلف تھانوں میں قتل، اقدام قتل اور بھتہ خوری سمیت درجنوں مقدمات درج ہیں۔ عزیر بلوچ 2013ءمیں حکومت کی جانب سے ٹارگٹ کلرز اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن شروع ہونے پر بیرون ملک فرار ہو گئے تھے۔ حکومت سندھ متعدد بار عزیر جان بلوچ کے سر کی قیمت مقرر کر چکی ہے جبکہ اس کے عدالت میں پیش نہ ہونے پر ریڈ وارنٹ بھی جاری ہو چکے ہیں۔

عذیر بلوچ کے عروج و زوال کی کہانی

ٹرانسپورٹر فیض محمد عرف فیضو ماما کے بیٹے عذیر نے 2003ءمیں محمد ارشد عرف ارشد پپو کے ہاتھوں اپنے والد کے قتل کے فوراً بعد جرائم کی دنیا میں قدم رکھ دیا تاکہ اپنے والد کے قتل کا بدلہ لے سکے۔ ارشد پپو، عذیر بلوچ کے کزن عبدالرحمان عرف عبدالرحمان ڈکیت کے حریف سمجھے جاتے تھے اور دونوں کے درمیان لیاری میں منشیات فروشی اور دیگر مذموم کاموں کو لیکر طویل عرصے تک گینگ وار جاری رہی۔

بعدازاں والد کے قتل کے مقدمے کی پیروی پر ارشد پپو نے عذیر بلوچ کو دھمکیاں دینی شروع کر دیں۔ نتیجتاً عذیربلوچ نے عبدالرحمان ڈکیت گینگ میں شمولیت اختیار کر لی۔ پولیس ان کاو¿نٹر میں عبدالرحمان ڈکیت کی موت کے بعد عذیر گینگ میں مرکزی کردار کے طور پر ابھر کر سامنے آیا اور تمام اراکین نے اسے بلامقابلہ گینگ کا سربراہ تسلیم کر لیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پیپلز امن کمیٹی سے وابستگی رکھنے والی پاکستان پیپلز پارٹی 2012ءتک عذیر بلوچ کو تحفظ فراہم کرتی رہی لیکن جب حالات نے کروٹ لی تو پیپلزپارٹی نے بھی موقف تبدیل کر لیا۔

عذیر بلوچ اس حد تک طاقتور ہو چکا تھا کہ اس نے آصف زرداری کے منہ بولے بھائی اویس مظفر ٹپی کو لیاری سے انتخابات میں حصہ ہی نہ لینے دیا۔ پیپلزپارٹی نے جواباً ہنگامی بنیادوں پر اپریل 2012ءمیں اس کے خلاف آپریشن شروع کردیا جس کے مقاصد مکمل طورپر سیاسی تھے۔ سات دنوں کی زورآزمائی کے بعد پیپلزپارٹی نے آپریشن ختم کر کے عذیر بلوچ کے مطالبات کے آگے سرخم تسلیم کر دیا۔

عذیر نے مطالبہ کیا تھا کہ 2013ءکے عام انتخابات میں ان کے منتخب کردہ امیدواروں کو پیپلزپارٹی ٹکٹ دے گی۔ عزیر بلوچ دہشت گردی‘ قتل اور بھتہ سمیت 20 سے مقدمات میں مطلوب تھا لیکن جو کارروائی ان کی ملک گیر شہرت کا باعث بنی وہ سپریم کورٹ کی جانب سے لیا گیا سوموٹو نوٹس تھا جو اعلیٰ عدلیہ نے ارشد پپو قتل کیس میں عزیر بلوچ کے ملوث ہونے پر لیا۔

تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لیے فوری اطلاع کی اجازت دیں

آپ کسی بھی وقت دائیں طرف نیچے بیل آئیکن پر صرف ایک کلک کے ذریعے آسانی سے سبسکرائب کر سکتے ہیں۔